Latest news

پاکستان کے الزامات مسترد، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تین وجوہات بیان کر دیں

Spread the love

محمود احمد, October23,2026

کابل (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اکتوبر 2026ء

افغانستان میں طالبان انتظامیہ نے ایک بار پھر پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ عسکریت پسند گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پاکستان میں بدامنی کا ذمہ دار افغانستان کو ٹھہرانا درست نہیں اور اسلام آباد کو اپنے سکیورٹی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے 23 اکتوبر کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پاکستانی حکام کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوجی قیادت اور سکیورٹی ادارے جب ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو ان کے بقول افغانستان پر الزام عائد کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

طالبان ترجمان نے اپنے بیان میں تین بنیادی نکات پیش کیے جن کی بنیاد پر ان کے مطابق طالبان انتظامیہ پاکستان میں بدامنی کی ذمہ دار نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عدم استحکام افغانستان کے مفاد میں نہیں، طالبان انتظامیہ کے پاس دوسرے ممالک میں بدامنی پھیلانے یا اس کی مالی معاونت کرنے کی صلاحیت نہیں، اور پڑوسی ملک میں عدم تحفظ افغانستان سمیت پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار عسکریت پسندوں کی موجودگی اور حملوں کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت بعض شدت پسند گروہوں کے ارکان افغانستان میں پناہ گاہیں رکھتے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ طالبان انتظامیہ ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

طالبان ترجمان کی جانب سے پیش کی گئی تین وجوہات

ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ افغانستان کے لیے یہ فائدہ مند نہیں کہ پاکستان میں بدامنی پیدا ہو یا وہاں عدم استحکام کو فروغ ملے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک ہمسایہ ہیں اور پاکستان میں سکیورٹی کی خرابی کے معاشی، سماجی اور انسانی اثرات افغانستان تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

دوسری وجہ بیان کرتے ہوئے طالبان ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ کے پاس دوسرے ممالک میں بدامنی پھیلانے یا اس کی مالی معاونت کرنے کی صلاحیت موجود نہیں۔ انہوں نے اس مؤقف کی حمایت میں کوئی تفصیلی شواہد یا الگ سے دستاویزی وضاحت پیش نہیں کی، بلکہ اسے پاکستان کے الزامات کی تردید کے طور پر بیان کیا۔

تیسرے نکتے میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کسی بھی پڑوسی ملک میں عدم تحفظ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں بدامنی افغانستان کے معاشی مفادات، سماجی حالات اور انسانی صورت حال کو بھی متاثر کرتی ہے، اس لیے کابل کے لیے اپنے ہمسایہ ملک میں عدم استحکام کی حمایت کرنا مفید نہیں ہو سکتا۔

اسلام آباد پر سکیورٹی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کا الزام

طالبان ترجمان نے پاکستانی حکام پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے ملک میں سکیورٹی کی صورت حال بہتر بنانے کے بجائے افغانستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ عمل سے وسائل ایسے اقدامات پر خرچ ہوتے ہیں جو خطے میں عدم استحکام بڑھا سکتے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افغانستان پر الزام تراشی سے پاکستانی سکیورٹی اداروں کی توجہ ان کی بنیادی ذمہ داریوں سے ہٹتی ہے۔ یہ مؤقف طالبان انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے الزامات کے جواب میں پیش کیا گیا ہے، تاہم بیان میں ان دعوؤں کی تائید کے لیے تفصیلی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔

پاکستان کا مؤقف اور دونوں ممالک کے درمیان اختلافات

پاکستان کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ اسلام آباد متعدد مواقع پر افغانستان میں موجود مبینہ پناہ گاہوں اور پاکستان میں ہونے والے عسکریت پسند حملوں کے درمیان تعلق کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پار موجود شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور افغان حکام کو ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔

طالبان انتظامیہ ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے اور پاکستان کو اپنے داخلی سکیورٹی مسائل کا ذمہ دار کابل کو نہیں ٹھہرانا چاہیے۔

دونوں ممالک کے درمیان اس اختلاف کا حل سرحدی سلامتی، عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں اور باہمی اعتماد سے متعلق امور پر واضح معلومات اور مسلسل رابطوں سے وابستہ ہے۔ تاہم موجودہ بیان سے کسی نئے معاہدے، مشترکہ تحقیقات یا اختلافات کے خاتمے کی تصدیق نہیں ہوتی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اس خبر میں ذبیح اللہ مجاہد کے بیان اور طالبان انتظامیہ کے مؤقف کو واضح طور پر ان سے منسوب کیا گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر مبینہ عسکریت پسند پناہ گاہوں سے متعلق الزامات اور طالبان انتظامیہ کی تردید متضاد مؤقف ہیں؛ ان دعوؤں کا حتمی جائزہ لینے کے لیے قابلِ تصدیق شواہد اور متعلقہ فریقوں کی تفصیلات ضروری ہیں۔

ماخذ: ذبیح اللہ مجاہد کا بیان، پاکستان کے دفترِ خارجہ کے سابقہ بیانات، پاکستانی حکام کے سکیورٹی سے متعلق مؤقف