

محمود احمد, September 19,2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 19 ستمبر 2026ء
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریبی علاقے میں ہفتے کے روز شدید آتشزدگی اور دھوئیں کے بادل دیکھے گئے، جس کے نتیجے میں ہوائی اڈے پر ایوی ایشن آپریشن شدید متاثر ہوا ہے اور متعدد پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر اور منسوخی رپورٹ کی گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ریاض کے مختلف علاقوں سے عینی شاہدین نے ایئرپورٹ کی سمت سے سیاہ دھوئیں کے بلند ہوتے بادل اور آگ کے شعلے دیکھے، جبکہ کچھ شہریوں نے زور دار دھماکوں جیسی آوازیں سننے کی بھی تصدیق کی۔ موقع پر موجود صحافیوں کے مطابق آگ سعودی تیل کمپنی آرامکو کے لوگو والے ایک ایندھن کے ٹینک پر لگی، جس پر فائرفائٹرز قابو پانے میں مصروف رہے۔
فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم ‘فلائٹ ریڈار 24’ نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شدید نوعیت کے خلل کی نشاندہی کی ہے، جہاں کئی ملکی و غیر ملکی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں اور کئی کو منسوخ کرنا پڑا۔ یہ تشویشناک واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اس سے چند ہی گھنٹے قبل سعودی حکام اور سول ڈیفنس کی جانب سے ریاض سمیت دیگر اہم خطوں کے لیے رات گئے فضائی خطرے (ایئر الرٹ) کا انتباہ جاری کیا گیا تھا، جسے بعد میں باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا تھا۔ تاہم ابھی تک ایندھن کے ٹینک میں آگ لگنے کی حتمی اور عینی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے واقعے کی فوری وجہ، یا اس کے ممکنہ ڈرون یا میزائل حملے سے تعلق کے بارے میں جاری کی گئی پوچھ گچھ پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ یہ واقعہ یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں حوثیوں کی جانب سے شہری و توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔ حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ اور باضابطہ بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ریاض ایئرپورٹ کے قریب آتشزدگی، دھوئیں اور پروازوں میں تاخیر کی اطلاعات عالمی خبر رساں اداروں اور فلائٹ ریڈار کی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ واقعہ کسی حملے کا نتیجہ تھا یا تکنیکی حادثہ، اس حوالے سے سعودی حکام کی تحقیقاتی پیش رفت جاری ہے۔
ماخذ: مڈل ایسٹ و فارن ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز ریاض / اسلام آباد۔