Latest news

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت اہم اجلاس؛ تمام ہسپتالوں کے فائر سیفٹی اور بنیادی انفراسٹرکچر کے جامع تکنیکی جائزے کے لیے ماہر کنسلٹنسی فرم کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ

Spread the love

روزینہ اسماعیل, September 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے مریضوں، طبی عملے اور عام شہریوں کی حفاظت و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے وزارتِ قومی صحت کے زیرِ انتظام تمام طبی اداروں اور ہسپتالوں میں ضروری حفاظتی و ساختاتی اصلاحات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ وزارتِ صحت کے ہیڈکوارٹر میں وفاقی وزیر کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں وزارت کے متعلقہ حکام، جوائنٹ سیکریٹری ہسپتال، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، جوائنٹ سیکریٹری ایڈمن اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد وفاقی ہسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور بنیادی انفراسٹرکچر کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینا اور خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی طے کرنا تھا۔

اجلاس کے دوران یہ اہم فیصلہ کیا گیا کہ وزارتِ قومی صحت کے زیرِ انتظام تمام بڑے ہسپتالوں، بنیادی مراکزِ صحت اور دیہی صحت کے مراکزی بنیادی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اس مقصد کو شفاف اور عالمی معیار کے مطابق حاصل کرنے کے لیے ایک نامور ماہر کنسلٹنسی فرم کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں، جو تمام ہسپتالوں میں حفاظتی اور تکنیکی نظام کی جامع جانچ کرے گی۔ اس تفصیلی معائنے میں فائر سیفٹی کے انتظامات کے ساتھ ساتھ عمارتوں کے الیکٹریکل سسٹمز، ہیٹنگ، وینٹی لیشن اور ایئر کنڈیشننگ، میڈیکل گیسز کے نظام، بائیومیڈیکل آلات کی حالت اور طبی فضلے کی تلفی کے نظام کو بھی باریکی سے پرکھا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ صحت نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو سخت ہدایت کی کہ ہسپتالوں میں حفاظتی اقدامات اور فائر سیفٹی کو محض کاغذی کارروائی یا فائلوں تک محدود رکھنے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ عملاً جاکر تمام سسٹمز کی جانچ کی جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں نقصان سے بچا جا سکے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہسپتال آنے والے مریضوں اور وہاں دن رات خدمات انجام دینے والے طبی عملے کو ایک محفوظ اور بے خوف ماحول فراہم کرنا موجودہ صحت کے نظام کی بنیادی اور اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں فائر سیفٹی کے واقعے کی تحقیقات کے بعد وفاقی سطح پر تمام ہسپتالوں کی فائر سیفٹی اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے بھی پمز میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی کے انتظامات کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق ڈھالنے اور قلیل مدتی اصلاحات کی تدابیر ہر صورت تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ وزارتِ صحت کے اس حالیہ اقدام سے مستقبل میں ہسپتالوں کے اندر ممکنہ حادثات اور فائر ایمرجنسیز کے خطرات کو کم سے کم تر بنانے میں مدد ملے گی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر اسلام آباد میں وزارتِ قومی صحت، خدمات و سہولیات کی جانب سے جاری کردہ رسمی پریس ریلیز اور وفاقی وزیرِ صحت کے زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس کی منٹس پر مبنی ہے۔

ماخذ:
وزارتِ قومی صحت، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP)، وزیراعظم آفس۔