پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سی ڈی اے کی فائر سیفٹی موک ڈرل: آتشزدگی سے نمٹنے کی عملی مشقیں مکمل

منصور احمد, September 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی عمارت میں فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی تدابیر کے حوالے سے ایک خصوصی موک ڈرل کا باقاعدہ انعقاد کیا گیا ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس عملی مشق کا بنیادی مقصد کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعہ یا آتشزدگی کی صورتحال میں فوری کارروائی، مؤثر حفاظتی اقدامات اور ہنگامی ردِعمل کے پورے نظام کی صلاحیتوں کو آزمائشی بنیادوں پر جانچنا اور مزید مضبوط بنانا تھا۔

موک ڈرل کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس کی اہم عمارت میں آتشزدگی کی فرضی صورتحال پیدا کی گئی اور امدادی کارروائیوں کا عملًا معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر آگ لگنے کی صورت میں عمارت کے اندر موجود افراد کے محفوظ انخلا، ریسکیو اداروں کو بلا تاخیر اطلاع دینے، آگ پر قابو پانے اور ضروری طبی امداد کی فراہمی جیسے تمام مرحلہ وار طریقہ کار کی مشقیں انجام دی گئیں۔

مشق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سینیئر افسران، ملازمین اور سی ڈی اے کی فائر فائٹنگ و ریسکیو ٹیموں نے مکمل ہم آہنگی اور تعاون کے ساتھ حصہ لیا۔

حکام نے اس موقع پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے موجود تمام موجودہ انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ سی ڈی اے حکام کے مطابق ایسی فرضی اور عملی مشقوں کا مقصد ادارہ جاتی تیاریوں کو ہر وقت فعال رکھنا ہے تاکہ کسی بھی واقعی ایمرجنسی میں قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ اور مالی نقصانات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی سانحہ: انتظامی غفلت، فائر سیفٹی اور ٹریننگ کے فقدان پر سنسنی خیز انکشافات

منصور احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے واقعے کے بعد انتظامی غفلت، فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی انتظامات کے حوالے سے سنسنی خیز اور سنگین انکشافات منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے سینئر صحافتی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پمز ہسپتال میں گزشتہ کئی سالوں سے کسی قسم کی ایمرجنسی فائر ڈرل یا موک ایکسرسائز کی مشق ہی نہیں کروائی گئی تھی، جس کے باعث ہسپتال کا طبی و انتظامی عملہ ہنگامی صورتحال میں اپنی اور زیرِ علاج مریضوں کی جان بچانے کی بنیادی عملی تربیت سے مکمل طور پر محروم تھا۔ بین الاقوامی قوانین اور طبی ضوابط کے مطابق کسی بھی ہسپتال میں عملے کے لیے ہر چھ ماہ بعد فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کی باقاعدہ ٹریننگ کروانا لازمی اور فلو چارٹ کا حصہ ہوتا ہے، جس میں آگ لگنے کی صورت میں فوری ردِعمل، مریضوں کو بحفاظت نکالنے (ایویکویشن) اور آگ پر قابو پانے کی عملی مشقیں شامل ہوتی ہیں، تاہم پمز میں ان قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔

صحافتی ذرائع کا مزید سنسنی خیز انکشاف یہ بھی ہے کہ آتشزدگی کے وقت وارڈ میں موجود آکسیجن سلنڈرز اور آکسیجن پائپ لائنز بھی آگ کی شدت میں تیزی سے اضافے کا بنیادی باعث بنے، جنہوں نے نرسری کے پورے ماحول کو منٹوں میں جہنم کا منظر بنا دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دل دہلا دینے والی حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ حادثے کے وقت ہسپتال کے ایمرجنسی ایگزٹ (نہایت ضروری راستے) اور ہنگامی نُکاس کے دروازے بند رکھے گئے تھے، جس کی وجہ سے مریضوں، والدین اور عملے کو نکلنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جب نرسری میں آگ بھڑکی تو ہسپتال کا خودکار الارم سسٹم بھی بروقت فعال اور سائرن بجانے میں ناکام رہا، جس نے انتظامی غفلت کی حد کر دی ہے۔ اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال میں ہر وقت سینکڑوں کی تعداد میں شدید بیمار مریض زیرِ علاج رہتے ہیں، لیکن ہنگامی انخلا کے لیے کسی مربوط اور مؤثر سیفٹی پلان کا نہ ہونا مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اس سانحے کے بعد ماہرین نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں کے فائر سیفٹی سسٹمز، ایمرجنسی راستوں اور عملے کی ٹریننگ کا بلا تاخیر ازسرِنو تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی ہولناک سانحے کو دوہرانے سے روکا جا سکے۔