Latest news

حوثیوں کا مدینہ کی جانب ڈرون بھیجنے سے انکار، سعودی اتحاد کا پانچ ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

Spread the love

محمود احمد, October21,2026

صنعاء / ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اکتوبر 2026ء

یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کی جانب ڈرون بھیجنے اور کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے بدھ کے روز مدینہ کی سمت کوئی ڈرون نہیں بھیجا۔ یہ بیان سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کی جانب سے پانچ ڈرون تباہ کرنے کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اتحاد کے مطابق سعودی عرب کی جانب آنے والے ڈرونز کو مختلف مقامات پر روکا گیا، جن میں مشرقی علاقے اور مدینہ کے اطراف بھی شامل تھے۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کے گروپ نے نہ تو مدینہ کی جانب کوئی ڈرون بھیجا اور نہ ہی سعودی عرب کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی۔ ان کی تردید ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی حکام کی جانب سے فضائی خطرے اور ڈرونز کو روکنے کی اطلاعات جاری کی گئی ہیں۔

سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ سعودی عرب کی جانب آنے والے چار ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔ بعد ازاں ایک دوسرے پیغام میں انہوں نے بتایا کہ یہ ڈرونز سعودی عرب کے مشرقی علاقے اور مدینہ کے علاقے میں روکے گئے تھے۔

ترکی المالکی نے بعد میں ایک مزید ڈرون کو بھی سعودی عرب کے مشرقی حصے میں روکنے کی اطلاع دی۔ اس طرح سعودی اتحاد کی جانب سے مجموعی طور پر پانچ ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ سامنے آیا۔ تاہم ترجمان نے اپنے ابتدائی بیانات میں ان ڈرونز کے ذمہ دار کسی فریق کا نام نہیں لیا۔

حوثیوں کی تردید اور سعودی اتحاد کا مؤقف

سعودی اتحاد کے دعوے اور حوثی ترجمان کی تردید کے بعد واقعے سے متعلق دو مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔ ایک جانب سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے سعودی عرب کی طرف آنے والے پانچ ڈرونز کو روک کر تباہ کیا، جبکہ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف کسی کارروائی میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

تاحال دستیاب معلومات میں ایسے شواہد سامنے نہیں آئے جن کی بنیاد پر ڈرونز کی اصل روانگی کی جگہ یا انہیں بھیجنے والے فریق کی آزادانہ طور پر تصدیق کی جا سکے۔ سعودی اتحاد نے بھی اپنے بیان میں کسی گروپ یا ملک کو براہِ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا۔

ڈرون حملوں سے متعلق واقعات میں ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے عموماً ڈرونز کی نوعیت، پرواز کے راستے، ملبے کے معائنے اور متعلقہ حکام کی تحقیقات اہم ہوتی ہیں۔ موجودہ معاملے میں ان تفصیلات کی عدم موجودگی کے باعث واقعے کے تمام پہلو ابھی واضح نہیں ہیں۔

مدینہ کے علاقے کا ذکر کیوں اہم ہے؟

مدینہ منورہ سعودی عرب کا اہم مذہبی شہر ہے اور مسلمانوں کے لیے غیر معمولی تقدس رکھتا ہے۔ سعودی اتحاد کے ترجمان کی جانب سے مدینہ کے علاقے میں ڈرونز روکے جانے کا ذکر سامنے آنے کے بعد اس واقعے نے خاص توجہ حاصل کی ہے۔

تاہم دستیاب بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ڈرونز کا ہدف مدینہ شہر تھا، اس کے نواحی علاقے تھے یا وہ کسی دوسرے مقام کی جانب پرواز کر رہے تھے۔ اتحاد کے مطابق ڈرونز کو مدینہ کے علاقے میں روکا گیا، لیکن ان کے اصل اہداف کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اس لیے مدینہ کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوشش قرار دینے سے پہلے مزید شواہد اور سرکاری وضاحت ضروری ہے۔ اسی طرح حوثیوں کی تردید بھی ان کے اپنے بیان پر مبنی ہے، جس کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید معلومات درکار ہیں۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی

یمن میں جاری تنازع کے دوران سعودی عرب اور حوثی تحریک کے درمیان فوجی کشیدگی مختلف ادوار میں بڑھتی رہی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے، جبکہ حوثی گروپ بھی ماضی میں سعودی عرب اور خطے کے دیگر اہداف سے متعلق حملوں کے دعووں یا تردیدوں کے ذریعے سامنے آتا رہا ہے۔

ڈرونز کا استعمال جدید علاقائی تنازعات میں ایک اہم سکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے آلات کم بلندی پر پرواز کر سکتے ہیں اور ان کی شناخت یا روک تھام کے لیے مخصوص نگرانی اور دفاعی نظام درکار ہوتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں بار بار ڈرونز کی اطلاعات سامنے آئیں تو اس سے فضائی نگرانی، شہریوں کے تحفظ اور دفاعی اخراجات سے متعلق خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

تاہم موجودہ واقعے کو کسی وسیع فوجی کارروائی یا نئے تنازع کے آغاز سے جوڑنے کے لیے ابھی کافی معلومات موجود نہیں ہیں۔ سعودی اتحاد کی جانب سے ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ اور حوثیوں کی تردید ہی اس وقت دستیاب بنیادی معلومات ہیں۔

مزید تصدیق کا انتظار

اس واقعے کے بعد اہم سوالات میں ڈرونز کی شناخت، ان کی روانگی کی جگہ، ممکنہ اہداف اور انہیں تباہ کرنے کے مقام سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔ یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ آیا سعودی حکام مزید شواہد جاری کرتے ہیں یا حوثی گروپ اپنے ابتدائی بیان کی وضاحت میں مزید معلومات فراہم کرتا ہے۔

علاقائی سلامتی کے تناظر میں ایسے واقعات پر نظر رکھنا ضروری ہے، تاہم غیر مصدقہ اطلاعات کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ سعودی اتحاد اور حوثیوں کے متضاد بیانات کے باعث واقعے کی مکمل تصویر سامنے آنے کے لیے آزادانہ تصدیق اہم ہوگی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے پانچ ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب کے خلاف کسی کارروائی اور مدینہ کی جانب ڈرون بھیجنے کی تردید کی ہے۔ دستیاب معلومات سے ڈرونز کے اصل ہدف اور ذمہ دار فریق کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوتی۔

ماخذ: سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کا بیان، حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کا بیان