Latest news

امریکہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کر دیا، مارکو روبیو کا بیان

Spread the love

محمود احمد, October21,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اکتوبر 2026ء

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مختلف ملکوں کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایسے ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے جن کے ساتھ امریکہ کے مضبوط اتحاد اور شراکت داری کے تعلقات ہیں۔ ان کے مطابق قطر طویل عرصے سے اس معاملے میں کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے بھی سفارتی رابطوں کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ صحافیوں کے سوالات اور جوابات کے متن کے مطابق مارکو روبیو سے پوچھا گیا کہ آیا قطر اور پاکستان نے ایران کے سامنے کوئی نئی تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد امریکہ اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کے لیے آمادہ کرنا ہے۔

جواب میں امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ کئی ممالک ایک عرصے سے ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مختلف تجاویز پیش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ان کوششوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ثالثی کے ایسے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے، خصوصاً جب یہ کوششیں اس کے قریبی اتحادیوں اور شراکت داروں کی جانب سے کی جا رہی ہوں۔

روبیو کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن سفارتی رابطوں کے ذریعے ایران کے ساتھ بات چیت کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کر رہا۔ تاہم انہوں نے قطر اور پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر پیش کی گئی نئی تجویز کی تفصیلات کی واضح تصدیق نہیں کی۔

پاکستان کے آرمی چیف کا دورۂ تہران زیرِ بحث

امریکی وزیرِ خارجہ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کا بھی ذکر کیا۔ روبیو نے کہا کہ ان کے خیال میں فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ روز تہران میں موجود تھے۔

پاکستان کے آرمی چیف کے اس دورے کو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کے ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات ہیں، اس لیے اسلام آباد کی جانب سے رابطوں اور ممکنہ مذاکرات کے لیے سہولت کاری کی کوششیں اہمیت اختیار کر سکتی ہیں۔

تاہم روبیو کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پاکستان نے ایران کے سامنے کون سی مخصوص تجویز رکھی، اس میں کیا شرائط شامل ہیں یا آیا امریکہ اور ایران نے کسی نئی مذاکراتی نشست پر اتفاق کیا ہے۔

قطر بھی ماضی میں مختلف علاقائی تنازعات میں ثالثی اور سفارتی رابطوں کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے۔ روبیو نے قطر کی کوششوں کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ طویل عرصے سے ایران سے متعلق معاملات میں رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔

حتمی فیصلہ امریکی صدر کریں گے

مارکو روبیو نے واضح کیا کہ ثالثی کے ذریعے سامنے آنے والی کسی بھی تجویز کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کا حتمی اختیار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہے۔ ان کے مطابق مختلف ممالک کی جانب سے تجاویز پیش کیے جانے کے باوجود واشنگٹن کا فیصلہ صدر کی منظوری سے ہی ہوگا۔

اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ ثالثی کی کوششوں کی حمایت تو کر رہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ واشنگٹن پہلے سے کسی معاہدے پر رضامند ہو چکا ہے۔ کسی بھی تجویز کی منظوری کا انحصار اس کے مندرجات اور امریکی حکومت کی شرائط پر ہوگا۔

روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ متعدد مرتبہ واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ کسی ایسے معاہدے کی حمایت نہیں کرے گا جو ایران کو مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرے۔ انہوں نے اس مؤقف کو امریکی پالیسی کا بنیادی نکتہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ امریکی صدر کے اقتدار میں رہتے ہوئے ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔

ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی مؤقف

امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں ایران کا جوہری پروگرام ایک اہم موضوع رہنے کا امکان ہے۔ واشنگٹن طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں اور نگرانی سے متعلق سخت شرائط پر زور دیتا رہا ہے، جبکہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔

روبیو کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے امکانات کے لیے دروازہ کھلا رکھنے کے باوجود ایران کے جوہری پروگرام پر اپنے بنیادی مطالبے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق ایسا کوئی معاہدہ قابلِ قبول نہیں ہوگا جو ایران کو مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے کے قابل بنا سکے۔

تاہم امریکی وزیرِ خارجہ نے یہ نہیں بتایا کہ واشنگٹن کسی ممکنہ معاہدے میں کن مخصوص شرائط، نگرانی کے انتظامات یا ضمانتوں کا مطالبہ کرے گا۔ اسی طرح ایران کی جانب سے کسی نئی تجویز پر باضابطہ ردعمل کی تفصیلات بھی فراہم کردہ بیان میں شامل نہیں ہیں۔

سفارتی کوششوں کا اگلا مرحلہ

قطر اور پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر نئی تجویز پیش کیے جانے کی اطلاعات کے بعد اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ کوششیں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار کر سکیں گی۔ روبیو نے ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی ہے، لیکن انہوں نے کسی طے شدہ مذاکراتی تاریخ یا حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا۔

اگر ثالثی کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال ہوتے ہیں تو اس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ تصادم کے خطرات محدود کرنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس عمل کی کامیابی کا انحصار دونوں حکومتوں کی آمادگی، جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات اور کسی قابلِ قبول معاہدے کی شرائط پر ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: مارکو روبیو نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور قطر کے کردار کا ذکر کیا، جبکہ پاکستان کے آرمی چیف کے دورۂ تہران کی طرف بھی اشارہ کیا۔ تاہم قطر اور پاکستان کی مبینہ نئی تجویز کی مکمل تفصیلات، ایران اور امریکہ کی جانب سے اس کی منظوری اور آئندہ مذاکرات کی تاریخ کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ماخذ: امریکی محکمہ خارجہ، مارکو روبیو کے صحافیوں کے سوالات کے جوابات