Latest news

ایم ڈی کیٹ نتائج پر سوالات، آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر کا میرٹ اور شفافیت پر مؤقف

Spread the love

روزینہ اسماعیل, October01,2026

سکھر (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اکتوبر 2026ء

آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف شیخ نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے نتائج پر اٹھنے والے سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ ٹیسٹ کے انعقاد، امتحانی پرچے اور جوابی کاپیوں کی جانچ سے متعلق تمام ضروری الیکٹرانک اور دستاویزی ریکارڈ ادارے کے پاس موجود ہے، جبکہ کسی بھی مجاز تحقیقات کی صورت میں یہ ریکارڈ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر آصف شیخ نے بتایا کہ 2024 میں ایم ڈی کیٹ کے امتحان سے متعلق پیپر لیک، سفارش اور مبینہ طور پر پیسوں کے عوض امیدواروں کو کامیاب کرانے کے الزامات سامنے آنے کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت آئی بی اے سکھر اور آئی بی اے کراچی کو داخلہ ٹیسٹ منعقد کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

ان کے مطابق ابتدائی طور پر آئی بی اے کراچی کو کراچی جبکہ آئی بی اے سکھر کو سندھ کے دیگر اضلاع میں ایم ڈی کیٹ کا امتحان منعقد کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا تھا، تاہم بعد میں آئی بی اے کراچی اس ذمہ داری سے دستبردار ہوگیا۔ اس کے بعد آئی بی اے سکھر کی جانب سے ٹیسٹ کے انعقاد کا دائرہ کار برقرار رہا۔

ڈاکٹر آصف شیخ نے حالیہ ٹیسٹ کے انتظامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امتحان کے انعقاد سے لے کر پیپر کی چیکنگ تک مختلف مراحل کا الیکٹرانک اور دستاویزی ریکارڈ محفوظ ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے وزیراعلیٰ اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو تحقیقات کا اختیار حاصل ہے اور اگر کسی قسم کی تحقیقات کی جاتی ہیں تو آئی بی اے سکھر متعلقہ ثبوت اور ریکارڈ فراہم کرے گا۔

وائس چانسلر نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ کسی مخصوص علاقے کے طلبہ کے کم یا زیادہ نمبروں کی بنیاد پر ٹیسٹنگ ادارے کی کارکردگی پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی بی اے سکھر میرٹ پر یقین رکھتا ہے اور اگر کراچی سے تعلق رکھنے والے امیدوار مطلوبہ یا توقع کے مطابق نمبر حاصل نہیں کرسکے تو اس کی ذمہ داری براہِ راست ٹیسٹنگ کے نظام پر عائد نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کے لیے حالیہ سی ایس ایس نتائج کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اگر کسی مخصوص شہر کے امیدواروں کی کامیابی کم ہو تو کیا اسی بنیاد پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نظام پر بھی سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔

ایم ڈی کیٹ پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے بنیادی داخلہ امتحان ہے، جس کے نتائج طلبہ کے مستقبل کے تعلیمی مواقع پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے امتحان کے انعقاد، میرٹ اور شفافیت سے متعلق کسی بھی شکایت کی صورت میں متعلقہ حکام کی جانب سے ریکارڈ کی جانچ اہمیت رکھتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ڈاکٹر آصف شیخ کا مؤقف بی بی سی کو دیے گئے ان کے بیان پر مبنی ہے۔ پیپر لیک، سفارش یا مالی بے ضابطگیوں سے متعلق الزامات کو اس خبر میں ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ ان الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین متعلقہ مجاز اداروں کی تحقیقات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔

ماخذ: بی بی سی اردو؛ ڈاکٹر آصف شیخ کا بیان