

روزینہ اسماعیل, October01,2026
کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اکتوبر 2026ء
کراچی کے علاقے گڈاپ میں ملازمت اور ایونٹ میں شرکت کا معاوضہ دینے کے وعدے پر خواتین کو فارم ہاؤس بلانے کے بعد ان کے موبائل فون مبینہ طور پر لے کر فرار ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے میں 59 خواتین متاثر ہوئیں جبکہ فارم ہاؤس بک کرانے والے ایک شخص اور ایک خاتون کوآرڈینیٹر کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ موبائل فون لے کر فرار ہونے والے مبینہ ملزم کی تلاش جاری ہے۔
گڈاپ تھانے میں درج مقدمے کے مطابق شکایت کنندہ شہناز کو ان کی سہیلی کنول نے واٹس ایپ کے ذریعے ایک 25 روزہ ایونٹ میں ملازمت کی پیشکش کی تھی۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ کام کے عوض روزانہ 2 ہزار روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ بعد ازاں ساحل سلمان نامی شخص نے رابطہ کرکے انہیں سلیکشن کی اطلاع دی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا۔
شکایت کے مطابق مختلف علاقوں سے آنے والی خواتین کے لیے الگ الگ کوآرڈینیٹر مقرر کیے گئے تھے۔ 30 ستمبر کو خواتین کو مقررہ بس اسٹاپس پر پہنچنے کی ہدایت کی گئی، جہاں سے انہیں بسوں کے ذریعے فارم ہاؤس لے جایا گیا۔ خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں ابتدا میں بحریہ ٹاؤن میں ایونٹ کے لیے بلائے جانے کا بتایا گیا تھا، تاہم بس انہیں گڈاپ کے علاقے میں واقع انصاری میڈوز فارم ہاؤس لے گئی۔
خواتین کے مطابق فارم ہاؤس پہنچنے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ پہلے تازہ دم ہوکر کھانا کھایا جائے گا اور اس کے بعد بحریہ ٹاؤن لے جایا جائے گا۔ بعد ازاں مختلف کوآرڈینیٹرز کی میٹنگز ہوئیں اور خواتین کو بتایا گیا کہ ان کے انٹرویوز ہوں گے، جبکہ کامیاب امیدواروں کے حتمی انٹرویوز بڑے بلڈرز کریں گے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ شام کے وقت خواتین کو ایک لائن میں بٹھا کر ان کے موبائل فون جمع کیے گئے۔ بعض خواتین سے اصل قومی شناختی کارڈ اور دیگر سامان بھی لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ شکایت کے مطابق کچھ دیر بعد ایک کوآرڈینیٹر نے بتایا کہ ساحل سلمان مبینہ طور پر موبائل فونز سے بھرا بیگ لے کر موٹر سائیکل پر فارم ہاؤس سے فرار ہوگیا۔
واقعے کے بعد خواتین نے پولیس کو اطلاع دی اور 59 متاثرہ خواتین تھانے پہنچیں، جہاں ان کے بیانات لیے گئے۔ پولیس کے مطابق فارم ہاؤس بک کرانے والے وقاص اور ایک خاتون کوآرڈینیٹر نرگس کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ ساحل سلمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 34، 379 اور 420 شامل کی گئی ہیں۔دوسری جانب فارم ہاؤس کے مالک اشر انصاری نے بتایا کہ جگہ کی بکنگ کارپوریٹ اسٹاف کے نام پر کی گئی تھی۔ ان کے مطابق بکنگ کے وقت تقریباً 50 سے 55 خواتین کی آمد اور چند گھنٹوں کی میٹنگ کا بتایا گیا تھا۔ مالک کے مطابق بکنگ وقاص نامی شخص نے کرائی، تاہم وہ خود فارم ہاؤس نہیں آیا، جبکہ وہاں ایک شخص اور ایک خاتون موجود تھے۔
اشر انصاری کے مطابق بعد میں کیئر ٹیکر نے انہیں اطلاع دی کہ ایک شخص خواتین کے موبائل فون لے کر فرار ہوگیا ہے۔ متاثرہ خواتین نے بتایا کہ موبائل فون یہ کہہ کر جمع کیے گئے تھے کہ ایک ’’باس‘‘ کی آمد کے دوران فون کی گھنٹی سے خلل پڑ سکتا ہے۔ اس کے بعد مبینہ طور پر تمام فون ایک بیگ میں رکھوا لیے گئے اور انہیں لے کر شخص فرار ہوگیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
پولیس کے مطابق واقعے میں 59 خواتین متاثر ہوئی ہیں اور مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ موبائل فون چوری کرنے اور خواتین کو ملازمت کے نام پر فارم ہاؤس بلانے سے متعلق الزامات فی الحال مقدمے اور متاثرہ خواتین کے بیانات پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں حتمی عدالتی طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ پولیس کی تحقیقات میں گرفتار افراد اور دیگر نامزد یا نامعلوم افراد کے کردار کا تعین ہونا باقی ہے۔
ماخذ: گڈاپ پولیس/ایف آئی آر سے متعلق رپورٹس،