

منصور احمد,October07,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 اکتوبر 2026ء
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر وی آئی پی موومنٹ کے دوران پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے اور سرکاری امور میں مداخلت سے متعلق مقدمے میں فردِ جرم عائد کردی ہے۔ دونوں ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مقدمہ 2024 میں اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے اسلام آباد ایکسپریس وے پر وی آئی پی موومنٹ کے دوران لگائی گئی رکاوٹیں ہٹائیں اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ مبینہ طور پر جھگڑا کیا۔ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 بھی شامل کی گئی تھی۔
بدھ کو انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اس وقت ایک دوسرے مقدمے میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
چالان کی نقول نہ ملنے پر وکیل کا اعتراض
سماعت کے دوران ملزمان کی وکیل زینب جنجوعہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود انہیں اپنے مؤکلین سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے کی تفتیش اور چالان سے متعلق ضروری دستاویزات کی نقول بھی ملزمان اور دفاعی وکیل کو فراہم نہیں کی گئیں۔
وکیل کے مطابق وہ تقریباً دو گھنٹے تک اڈیالہ جیل کے باہر انتظار کرتی رہیں، تاہم ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے ملاقات نہیں ہوسکی۔
عدالت نے صورتِ حال کے پیش نظر اڈیالہ جیل حکام کو دونوں ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔
زینب جنجوعہ نے یہ قانونی اعتراض بھی اٹھایا کہ جب تک مقدمے کے چالان اور متعلقہ دستاویزات کی نقول ملزمان اور ان کے وکیل کو فراہم نہیں کی جاتیں، اس مرحلے پر فردِ جرم عائد نہیں کی جاسکتی۔
ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے بھی عدالت کو بتایا کہ انہیں مقدمے کے چالان کی نقول موصول نہیں ہوئیں اور ان کے مطابق قانونی تقاضے مکمل کیے بغیر فردِ جرم عائد نہیں کی جاسکتی۔
عدالت نے اعتراضات مسترد کر دیے
عدالت نے دفاع کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے دونوں ملزمان پر فردِ جرم عائد کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزمان کو حکم پر کوئی اعتراض ہے تو وہ اسے متعلقہ فورم پر چیلنج کرسکتے ہیں۔
فردِ جرم عائد ہونے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے صحتِ جرم سے انکار کردیا۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مقدمے کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
فردِ جرم عائد ہونا کسی مقدمے میں جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا۔ اس مرحلے پر عدالت نے ملزمان پر الزامات باقاعدہ طور پر عائد کیے ہیں، جبکہ دونوں نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے اور مقدمہ اب باقاعدہ عدالتی کارروائی کے اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔
ماخذ: عدالت میں ہونے والی کارروائی، فراہم کردہ عدالتی معلومات