

محمود احمد, October07,2026
ایتھنز (نیوز اینڈ نیوز) — 7 اکتوبر 2026ء
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق امریکہ کے ساتھ معاہدے کے متعدد مواقع ضائع کر چکا ہے، جبکہ واشنگٹن ایسا کوئی سمجھوتا قبول نہیں کرے گا جو ایران کو مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی قابلِ اعتماد ضمانت فراہم نہ کرے۔
ایتھنز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ کے لیے قابلِ قبول معاہدے میں یہ یقین دہانی بنیادی شرط ہوگی کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔
روبیو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور ممکنہ معاہدے پر توجہ مرکوز ہے۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایرانی حکومت کو یورینیم افزودگی کی اپنی صلاحیت میں ’’معنی خیز‘‘ کمی کرنا ہوگی۔ امریکی حکام کے مطابق یورینیم افزودگی کی صلاحیت ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں ایک اہم معاملہ ہے۔
ایران کی معیشت سے متعلق امریکی مؤقف
امریکی وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس کے دوران ایران کی معاشی صورتحال پر بھی بات کی اور دعویٰ کیا کہ ایرانی معیشت شدید زوال کا شکار ہے۔
مارکو روبیو نے تیل کی ترسیل کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران سے اس وقت تقریباً اتنا ہی تیل عالمی منڈی میں جا رہا ہے جتنا موجودہ تنازع سے قبل برآمد کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول کھو دیا ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا اہم سمندری راستہ ہے، جس کے ذریعے عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔ اس لیے اس راستے کی صورتحال عالمی توانائی منڈی اور تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
روبیو کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر کسی ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جس میں ایران کی جوہری صلاحیتوں، بالخصوص یورینیم افزودگی، پر سخت ضمانتیں شامل ہوں۔ دوسری جانب ایران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا رہا ہے اور اس معاملے پر دونوں ممالک کے مؤقف میں نمایاں اختلافات موجود ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
مارکو روبیو کے بیان میں ایران کے جوہری پروگرام، تیل کی برآمدات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق امریکی مؤقف پیش کیا گیا ہے۔ ایران کے مؤقف اور ان دعووں کی آزادانہ تصدیق کو الگ رکھا جانا ضروری ہے، اس لیے امریکی حکام کے بیانات کو حتمی غیر جانب دارانہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
ماخذ: مارکو روبیو کی ایتھنز میں پریس کانفرنس، امریکی حکام کے بیانات