

منصور احمد,September 21,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 21 ستمبر 2026ء
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک اہم اعلیٰ سطحی دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں ایئرپورٹ پر ان کے ایرانی ہم منصب سکندر مومنی نے ان کا پرتباک استقبال کیا۔ اس اہم دورے کا بنیادی مقصد پاک-ایران دوطرفہ تعلقات کو تقویت دینا، بارڈر سکیورٹی کے امور کو منظم بنانا اور باہمی تجارتی و اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینا ہے۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے حکام کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی نشستیں بھی شیڈول ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ اور پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق، محسن نقوی کا یہ دورہ خالصتاً اسلام آباد اور تہران کے باہمی اور دوطرفہ تعلقات کے فریم ورک کے تحت ہو رہا ہے اور اس کا امریکہ اور ایران کے درمیان جاری علاقائی مسائل سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔ ترجمان کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان معاشی و تجارتی امور کو عملی شکل دینے کے لیے ممکنہ طور پر وفد میں پاکستان کے ایک اقتصادی وزیر کی شمولیت بھی زیرِ غور رہی ہے تاکہ سرحدی تجارت اور اقتصادی پیش رفت کو مزید تیز کیا جا سکے۔
اگرچہ قطر اور پاکستان ماضی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی پیغامات کی ترسیل میں ثالث کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے باضابطہ ذرائع نے واضح کیا ہے کہ محسن نقوی کے موجودہ دورے کو صرف پاک-ایران بارڈر مینجمنٹ، انسدادِ دہشت گردی اور باہمی عوامی روابط کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کے مسلسل تہران دورے دونوں پڑوسی ممالک کی جانب سے سرحدی سکیورٹی اور تجارتی استحکام کو اولین ترجیح دینے کی واشگاف دلیل ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر پاکستان اور ایران کے دفاترِ خارجہ اور ایرانی خبر رساں ادارے (تسنیم) کے باضابطہ بیانات پر مبنی ہے۔ تہران میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے مشترکہ اعلامیے اور تجارتی و سکیورٹی معاہدوں کی تفصیلی رپورٹ بعد میں اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
ماخذ:
پاکستان دفتر خارجہ، ایرانی وزارت داخلہ، تسنیم نیوز ایجنسی، قطر کے سرکاری بیانات۔