Latest news

عباس عراقچی کی امریکہ اور اسرائیل کو تنبیہ، کہا جنگ بندی کے لیے تمام محاذوں پر لڑائی بند کرنا ہوگی

Spread the love

محمود احمد، 25 اکتوبر 2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اکتوبر 2026ء

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تنازع شروع ہونے کے امکان سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام محاذوں پر لڑائی مکمل طور پر بند ہو۔ ان کے مطابق پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوران بھی ایران نے اس معاملے کو اٹھایا ہے۔

عراقچی نے یہ بات کمال خرازی دستاویزی مرکز اور میوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکان کا دوبارہ ذکر کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے باوجود فریقین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنگ بندی کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ لڑائی صرف کسی ایک مقام تک محدود نہ رہے بلکہ تمام محاذوں پر مکمل طور پر رک جائے۔ ان کے مطابق ایران نے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں بھی اس مؤقف پر زور دیا ہے۔

تمام محاذوں پر جنگ بندی کا مطالبہ

عباس عراقچی کے بیان میں یہ بات نمایاں رہی کہ ایران جنگ بندی کو صرف ایک علاقے میں لڑائی رکنے تک محدود نہیں سمجھتا۔ ان کے مؤقف کے مطابق اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی ہو، لیکن دوسرے مقامات پر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو تنازع دوبارہ بھڑکنے کا خطرہ برقرار رہ سکتا ہے۔

پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ یہ معاملہ بات چیت کے دوران اٹھایا گیا ہے۔ تاہم ان مذاکرات کی تازہ پیش رفت، آئندہ نشستوں کے شیڈول یا فریقین کے درمیان زیرِ بحث دیگر شرائط کی تفصیلات ان کے بیان میں سامنے نہیں آئیں۔

جنگ بندی کے حوالے سے بنیادی اختلافات میں کارروائیاں روکنے کی شرائط، ان کے دائرۂ کار اور ان پر عمل درآمد کے طریقۂ کار جیسے معاملات اہم ہو سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ بیان میں ان تمام نکات پر کسی حتمی معاہدے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت بیان

عراقچی نے اپنے خطاب میں ’’جنگ کے ترجمانوں کی معاندانہ سرگوشیوں‘‘ سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس کی بھاری قیمت وصول کرے گا۔ ان کا بیان امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ممکنہ دوبارہ تصادم کے حوالے سے سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی میزائلوں نے زمین پر موجود درجنوں امریکی لڑاکا طیارے تباہ کر دیے۔ تاہم اس دعوے کے حق میں بیان میں مزید تفصیلات پیش نہیں کی گئیں اور دستیاب معلومات میں اس کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔ اس لیے طیاروں کی تباہی سے متعلق اس بات کو ایرانی وزیرِ خارجہ کے دعوے کے طور پر ہی بیان کرنا ضروری ہے۔

فوجی کارروائیوں کے دوران مختلف فریق اپنے نقصانات اور کامیابیوں کے بارے میں متضاد بیانات جاری کر سکتے ہیں۔ ایسے دعوؤں کی درست جانچ کے لیے آزادانہ شواہد، متعلقہ فوجی حکام کے بیانات اور قابلِ اعتماد معلومات درکار ہوتی ہیں۔

ٹرمپ کا نئی فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کرنا

عراقچی کے بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکان کا دوبارہ اظہار کرنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے۔ ٹرمپ نے کہا تھا: ’’شاید مجھے یہ کام مکمل کرنا پڑے، یا شاید وہ راضی ہو جائیں۔‘‘ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں ابھی نتیجے کے بارے میں یقین نہیں ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نئی کارروائی سے ان کی مراد کس نوعیت کا فوجی اقدام ہے یا اس کے لیے کوئی فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ ان کے الفاظ کو ممکنہ کارروائی کے امکان کے اظہار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن صرف اس بیان کی بنیاد پر کسی حتمی فوجی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوتی۔

امریکی صدر کے بیان اور ایرانی وزیرِ خارجہ کے ردعمل کے درمیان زمانی قربت نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سے متعلق خدشات کو نمایاں کیا ہے۔ اگر سفارتی کوششیں آگے نہ بڑھ سکیں تو فوجی دباؤ اور سخت بیانات مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

کمال خرازی کے نام سے قائم مرکز کی افتتاحی تقریب

عراقچی نے یہ بیانات کمال خرازی دستاویزی مرکز اور میوزیم کی افتتاحی تقریب میں دیے۔ کمال خرازی ایران کے سابق وزیرِ خارجہ اور سابق ایرانی رہبر کے بین الاقوامی امور کے مشیر رہے تھے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق وہ امریکہ کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد وفات پا گئے تھے۔

تقریب میں عراقچی کی گفتگو کا مرکزی موضوع جنگ بندی، ایران کی سلامتی اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی صورت حال تھا۔ ان کے بیان سے یہ واضح ہوا کہ تہران جنگ بندی کے لیے تمام محاذوں پر لڑائی بند کرنے کی شرط کو اہم سمجھتا ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے نئی کارروائی کے امکان کا ذکر کشیدگی میں اضافے کے خدشات برقرار رکھتا ہے۔

سفارت کاری کے امکانات اور علاقائی صورت حال

پاکستان اور قطر کی ثالثی کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنازع کے حل کے لیے سفارتی رابطوں کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ثالثی کے ذریعے فریقین کو بات چیت کا موقع مل سکتا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار ان شرائط پر اتفاق اور طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد پر ہوتا ہے۔

فی الحال دستیاب بیانات میں نہ تو کسی نئے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی نئی فوجی کارروائی کے حتمی فیصلے کا اعلان سامنے آیا ہے۔ اس لیے صورت حال کا اگلا رخ فریقین کے آئندہ بیانات، مذاکراتی رابطوں اور زمینی حالات سے واضح ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: تمام محاذوں پر جنگ بندی کا مطالبہ اور امریکی لڑاکا طیاروں کی تباہی سے متعلق بیان ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے منسوب ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی فوجی کارروائی کے امکان کا ذکر کیا، لیکن ان کے بیان میں کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ دونوں جانب کے دعوؤں اور فوجی نقصانات کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔

ماخذ: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے بیانات، ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان، کمال خرازی دستاویزی مرکز اور میوزیم کی افتتاحی تقریب سے متعلق معلومات