

روزینہ اسماعیل، 25 اکتوبر 2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اکتوبر 2026ء
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملے سے متعلق امریکی حکام کی دھمکیوں کے جواب میں سخت ردعمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب ’’ناقابلِ تصور‘‘ ہوگا۔ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار بھی سمجھے جانے والے قالیباف نے یہ بیان اتوار کو پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل اپنے خطاب میں دیا۔
قالیباف کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران امریکہ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے خدشات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اپنی سرزمین کے خلاف کسی بھی اقدام کو ناقابلِ قبول قرار دیتا ہے۔ ان کا انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، جنگ بندی کی شرائط اور سفارتی مذاکرات کے مستقبل پر بحث جاری ہے۔
ایران کی علاقائی سالمیت پر سخت مؤقف
محمد باقر قالیباف نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ایران کی سرزمین یا علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کی صورت میں جواب دیا جائے گا۔ ان کے الفاظ میں ’’ناقابلِ تصور جواب‘‘ دینے کی دھمکی شامل تھی، تاہم انہوں نے اس بیان میں کسی مخصوص فوجی حکمتِ عملی، ہدف یا کارروائی کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ایرانی قیادت ماضی میں بھی خبردار کرتی رہی ہے کہ اس کے خلاف فوجی کارروائی کی صورت میں جوابی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ ملک کی خودمختاری اور دفاعی صلاحیتوں کا تحفظ اس کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔
تاہم کسی ممکنہ ردعمل کی نوعیت کا تعین صرف اس بیان سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ایران کی جانب سے مزید وضاحت یا متعلقہ حکام کے باضابطہ اعلانات کا انتظار کرنا ہوگا۔
امریکی دھمکیوں کے پس منظر میں بیان
قالیباف کا بیان امریکی سینیئر حکام کی جانب سے ایران پر ایک اور ممکنہ فوجی حملے سے متعلق دھمکیوں کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ تنازع شروع ہونے کے امکان پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔
عراقچی نے جنگ بندی کے لیے تمام محاذوں پر لڑائی مکمل طور پر بند ہونے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور بتایا تھا کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔
ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ایک طرف ممکنہ فوجی کارروائی کے خلاف سخت انتباہ دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سفارتی رابطوں اور جنگ بندی سے متعلق شرائط کو بھی اہم قرار دے رہا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ حالیہ بیانات کے بعد مذاکراتی عمل میں کوئی نئی پیش رفت ہوئی ہے یا نہیں۔
محمد باقر قالیباف کا سیاسی اور سفارتی کردار
محمد باقر قالیباف ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیں اور ایران کے سیاسی نظام میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر بھی مؤقف پیش کرتے رہے ہیں۔
پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں قیاس آرائیاں اور سخت بیانات علاقائی صورت حال کو مزید حساس بنا رہے ہیں۔ ایسے بیانات کا مقصد مخالف فریق کو ممکنہ نتائج سے خبردار کرنا ہو سکتا ہے، لیکن ان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ فوجی تصادم کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
خطے میں کشیدگی اور سفارت کاری کے امکانات
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور علاقائی سفارتی رابطوں پر پڑ سکتے ہیں۔ کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں تنازع کے دائرے میں اضافے اور دوسرے ممالک کے متاثر ہونے کے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفارتی رابطے بھی اس تنازع کے حل کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ تاہم مذاکرات کی کامیابی کا انحصار فریقین کے درمیان شرائط پر اتفاق، جنگ بندی کے دائرے اور اس پر عمل درآمد کے طریقۂ کار پر ہوگا۔
فی الحال قالیباف کے بیان میں ایران کے ممکنہ جوابی اقدام کی نوعیت واضح نہیں کی گئی اور امریکی حکام کی دھمکیوں کے بعد کسی نئی فوجی کارروائی کے حتمی فیصلے کی تصدیق بھی فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار متعلقہ ممالک کے مزید بیانات، سفارتی رابطوں اور زمینی صورت حال پر ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ایران کی جانب سے ’’ناقابلِ تصور جواب‘‘ دینے کی دھمکی محمد باقر قالیباف سے منسوب ہے۔ یہ بیان ایران کے دفاعی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، لیکن اس میں کسی مخصوص جوابی کارروائی کی تفصیل نہیں دی گئی۔ ممکنہ امریکی حملے یا فوجی تصادم کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ ان معلومات سے ثابت نہیں ہوتا۔
ماخذ: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا بیان، ایرانی حکام کے بیانات، ایران امریکہ مذاکرات سے متعلق دستیاب معلومات