Latest news

ایران کی امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے قطر اور پاکستان کے ذریعے شرائط کی ارسال: محسن رضائی کا اہم انکشاف

Spread the love

محمود احمد, September 19,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 19 ستمبر 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے آغاز کے لیے اپنی بنیادی شرائط دوست ممالک قطر اور پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دی ہیں اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردِعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی پیشگی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا فوری خاتمہ، بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی سلب شدگی کا خاتمہ و رہائی اور ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کو ختم کرنا شامل ہے۔ محسن رضائی کے مطابق قطر اور پاکستان جیسے اہم ثالث ممالک کے ساتھ ان نکات پر مشاورت کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

ایرانی سکیورٹی کونسل کے سربراہ نے واشنگٹن کو سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر ایران پر دوبارہ کسی بھی قسم کا عسکری حملہ کیا گیا تو ایرانی مسلح افواج خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور امریکی مفادات کو پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ نشانہ بنائیں گی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک ایران کی شرطیں تسلیم نہیں کی جاتیں، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمد و رفت کے لیے کھولنے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ جوہری پروگرام پر تہران کا موقف بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے فی الحال جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے دستبردار ہونے کا فیصلہ نہیں کیا اور ایران جوہری ہتھیاروں سے متعلق اپنے سپریم لیڈر کے فتوے پر قائم ہے، تاہم تہران کا آئندہ کا رویہ امریکی طرزِ عمل سے مشروط ہوگا۔

علاقائی تنازعات کے حوالے سے محسن رضائی نے یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے حوثی بھی ریاض کے ساتھ سیاسی تصفیے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم، آبنائے باب المندب اور ڈرون و میزائل حملوں کے باعث صورتحال بدستور پیچیدہ ہے، جبکہ پاکستان بھی ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور حوثیوں کے حملے روکنے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے بین الاقوامی میڈیا کو دیے گئے باضابطہ بیانات اور قطر و پاکستان کے ذریعے جاری سفارتی کاوشوں پر مبنی ہے۔

ماخذ: فارن اینڈ مڈل ایسٹ ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز تہران / اسلام آباد۔