Latest news

ایران کی فضائی پابندیوں کے خلاف آئی سی اے او میں شکایت، ہیگ کی عدالت سے بھی رجوع

Spread the love

محمود احمد, September 28,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 28 ستمبر 2026ء

ایران نے اپنی شہری ہوابازی کی صنعت پر عائد امریکی پابندیوں اور ہوائی اڈوں، طیاروں اور ریڈار نظام پر مبینہ حملوں کے خلاف بین الاقوامی شہری ہوابازی تنظیم (آئی سی اے او) کو باضابطہ شکایت ارسال کر دی ہے، جبکہ اس معاملے پر ہیگ کی عدالت سے بھی رجوع کیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کی سول ایوی ایشن تنظیم کے سربراہ ابوذر شیرودی نے کہا ہے کہ ایرانی فضائی صنعت پر عائد پابندیوں اور شہری ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے معاملے پر بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

ابوذر شیرودی نے الزام عائد کیا کہ ہوائی اڈوں، طیاروں اور ریڈار نظام پر حملے بین الاقوامی قوانین اور رائج ضوابط کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے ان واقعات کے حوالے سے ہیگ کی عدالت میں بھی شکایت دائر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی اے او نے ہوائی اڈوں اور طیاروں پر حملوں اور بمباری کے معاملے میں ایران کے مؤقف کی حمایت کی ہے، تاہم ہیگ کی عدالت میں مقدمات ابھی زیر سماعت ہیں اور اس حوالے سے ایرانی حکام کو تاحال کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ایرانی سول ایوی ایشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایران کو ان واقعات کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ ملے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ متعلقہ عدالت کی کارروائی اور حتمی فیصلے سے مشروط ہے۔

ایرانی پروازوں پر پابندیاں اور فضائی رابطوں میں مشکلات

ایران کی فضائی صنعت کو حالیہ ہفتوں میں امریکی پابندیوں کے باعث بین الاقوامی پروازوں اور ہوائی اڈوں کی خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے 8 ستمبر 2026ء کو ایرانی فضائی شعبے سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا، جن میں متعدد ایرانی ایئرلائنز اور ان سے منسلک اداروں کو ہدف بنایا گیا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ایران کی فضائی صنعت سے وابستہ مبینہ معاونت اور سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق پابندیوں کے نفاذ کے بعد متعدد ممالک میں ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں منسوخ یا محدود ہوئی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات میں عراق، جارجیا، متحدہ عرب امارات، آذربائیجان اور عمان کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں ایرانی پروازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔

ارنا اور فارس کی رپورٹس کے مطابق ایرانی ایئرلائنز نئے فضائی راستے کھولنے اور متبادل ہوائی اڈوں کے استعمال کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے باعث بین الاقوامی فضائی رابطوں میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام متبادل راستوں کے ذریعے پروازوں کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بعض پروازوں کو متبادل علاقائی ہوائی اڈوں کی طرف منتقل کرنے اور دیگر فضائی راستوں کے ذریعے رابطے برقرار رکھنے کے امکانات پر بھی بات چیت جاری ہے۔

ہرجانے کا فیصلہ عدالتی کارروائی سے مشروط

ابوذر شیرودی نے واضح کیا کہ ایران کو شہری ہوابازی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ملنے کا معاملہ عدالتی فیصلے سے وابستہ ہے۔ ان کے مطابق ہیگ کی عدالت میں کارروائی ابھی مکمل نہیں ہوئی اور اس مرحلے پر ہرجانے کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

ایران کی جانب سے آئی سی اے او سے رجوع کرنے کا مقصد شہری ہوابازی سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے اعتراضات پیش کرنا اور فضائی شعبے پر عائد پابندیوں کے اثرات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

ایران کی جانب سے آئی سی اے او اور ہیگ کی عدالت سے رجوع کرنے، حملوں کو جنگی جرائم قرار دینے اور آئی سی اے او کی حمایت سے متعلق تفصیلات ایرانی حکام اور سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے بیانات پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں، خصوصاً عدالت میں دائر مقدمے کی موجودہ حیثیت اور آئی سی اے او کے کسی باضابطہ فیصلے کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہو سکی۔ امریکی پابندیوں کے اعلان کی تصدیق امریکی محکمہ خزانہ کے ریکارڈ سے ہوتی ہے، تاہم مختلف ممالک میں پروازوں کی منسوخی اور پابندیوں کے عملی اثرات ہر ایئرلائن اور روٹ کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

ماخذ:
ارنا؛ فارس نیوز ایجنسی؛ امریکی محکمہ خزانہ؛ رائٹرز