Latest news

ایرانی صدر مسعود پزشکیان 27 اکتوبر کو ماسکو جائیں گے، پیوٹن سے ملاقات بھی متوقع

Spread the love

محمود احمد, October24,2026

ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء

ایران کے صدر مسعود پزشکیان منگل، 27 اکتوبر کو روس کے دارالحکومت ماسکو کا دورہ کریں گے، جہاں وہ گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے آٹھویں سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے انتظامات اور تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تہران اور ماسکو کے درمیان اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک مختلف علاقائی و بین الاقوامی معاملات پر مشاورت کر رہے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق روسی دارالحکومت میں دونوں ملکوں کے صدور، مسعود پزشکیان اور ولادیمیر پیوٹن، کی شرکت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

کاظم جلالی کے بیان کے مطابق ایرانی صدر کا بنیادی دورہ گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے سربراہی اجلاس میں شرکت سے متعلق ہے۔ اجلاس میں گیس کی عالمی منڈی، توانائی کے شعبے میں تعاون اور گیس پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان رابطوں جیسے معاملات زیرِ بحث آنے کی توقع ہے، تاہم مخصوص ایجنڈے اور اجلاس کے حتمی فیصلوں کی تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

تہران اور ماسکو کے درمیان مشاورت

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ایران اور روس کے درمیان مشاورت آئندہ ہفتے ماسکو میں جاری رہے گی۔ ان کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے صدور بھی اس سفارتی عمل میں شریک ہوں گے۔

ایران اور روس کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے توانائی، علاقائی صورت حال اور دوطرفہ تعاون سمیت مختلف امور کا احاطہ کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے صدور کی ممکنہ ملاقات میں ان معاملات پر تبادلۂ خیال ہو سکتا ہے، تاہم ملاقات کے مخصوص موضوعات یا کسی ممکنہ معاہدے کے بارے میں باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

پزشکیان کے دورے کی تصدیق سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ ایران روس کے ساتھ سفارتی رابطوں کو اعلیٰ سطح پر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب ماسکو بھی توانائی پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان تعاون اور بین الاقوامی توانائی مباحث میں اپنے کردار کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔

گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کا سربراہی اجلاس

گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کا آٹھواں سربراہی اجلاس 27 اکتوبر کو ماسکو میں منعقد ہونا طے ہے۔ یہ فورم گیس پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان تعاون، توانائی کی منڈیوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور قدرتی گیس کے شعبے سے متعلق مشترکہ امور پر تبادلۂ خیال کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

عالمی توانائی کی منڈی میں قدرتی گیس کی اہمیت کے باعث پیداوار، طلب، رسد اور بین الاقوامی تجارت سے متعلق معاملات ایسے اجلاسوں میں خصوصی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ گیس پیدا کرنے والے ممالک کے لیے توانائی کے شعبے میں رابطے برقرار رکھنا اقتصادی منصوبہ بندی اور منڈیوں کی صورت حال کو سمجھنے کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

ماسکو میں ہونے والے اجلاس میں رکن ممالک کی قیادت کی شرکت سے توانائی کے شعبے میں باہمی مشاورت کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔ تاہم اجلاس کے دوران کسی نئے معاہدے، پیداوار سے متعلق فیصلے یا مشترکہ پالیسی کے اعلان کی فی الحال تصدیق نہیں ہوئی۔

روس اور ایران کے تعلقات پر توجہ

ایرانی صدر کا ماسکو کا دورہ صرف توانائی کے اجلاس تک محدود نہیں رہے گا، کیونکہ ایرانی وزیرِ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے صدور کی شرکت کے ساتھ دوطرفہ مشاورت بھی متوقع ہے۔ اس سے تہران اور ماسکو کے درمیان سیاسی رابطوں کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان آئندہ گفتگو کے نتائج کا انحصار ملاقاتوں میں زیرِ بحث آنے والے موضوعات اور کسی ممکنہ مشترکہ اعلان پر ہوگا۔ فی الحال ایرانی سفیر نے دورے کی تصدیق اور انتظامات کو حتمی شکل دینے کی اطلاع دی ہے، جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ نے روسی دارالحکومت میں مشاورت جاری رہنے کی بات کی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ایرانی صدر کے دورے کی تاریخ روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی کے بیان کے مطابق ہے۔ ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ملاقات اور مذاکرات سے متعلق تفصیلات ایرانی وزیرِ خارجہ کے بیان پر مبنی ہیں؛ کسی حتمی معاہدے یا اجلاس کے فیصلوں کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔

ماخذ: روس میں ایران کا سفارتخانہ، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا بیان،