Latest news

پاکستان کا پُرامن جوہری ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی کا مطالبہ، زیرِ التوا معاملات کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور

Spread the love

محمود احمد, October24,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پُرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی تک منصفانہ اور بلاامتیاز رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے مقاصد کے حصول کی کوششیں جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال میں بین الاقوامی تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہییں۔ پاکستان نے زیرِ التوا جوہری معاملات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے مکالمے، تکنیکی مشاورت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کی رپورٹ پر جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مشن کے قونصلر سید عاطف رضا نے ادارے کے مینڈیٹ اور امن و ترقی کے لیے جوہری سائنس و ٹیکنالوجی کے محفوظ، مؤثر اور پائیدار استعمال کو فروغ دینے میں اس کے کردار کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال سے توانائی، صحت، زراعت، آبی وسائل کے انتظام اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے اہم شعبوں میں نمایاں فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو ان فوائد تک رسائی دینے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور تکنیکی معاونت ضروری ہے۔

آئی اے ای اے کے ساتھ پاکستان کا تعاون

قونصلر عاطف رضا نے بتایا کہ پاکستان 1957 سے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ پاکستان ادارے کے تکنیکی تعاون کے پروگرام سے استفادہ کرنے کے ساتھ اس میں اپنا حصہ بھی ڈالتا ہے۔ انہوں نے تربیت، تکنیکی مہارت کی فراہمی اور متعلقہ شعبوں میں استعدادِ کار بڑھانے کے لیے پاکستان کی خدمات کا ذکر کیا۔

پاکستانی نمائندے نے جوہری تحفظ، سلامتی، حفاظتی اقدامات، جوہری توانائی، صحت، آبی وسائل، خوراک و زراعت اور انسانی وسائل کی ترقی سے متعلق قومی منصوبوں کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے تمام بنیادی شعبوں میں اس کے مینڈیٹ پر متوازن انداز میں عمل درآمد ضروری ہے، تاکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے تقاضوں کے ساتھ پُرامن استعمال کے مقاصد بھی آگے بڑھ سکیں۔

پاکستان کے چھ جوہری بجلی گھر

پاکستانی نمائندے کے مطابق ملک میں چھ جوہری بجلی گھر کام کر رہے ہیں اور یہ سب آئی اے ای اے کے حفاظتی اقدامات کے تحت ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق جوہری بجلی گھر پاکستان کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی ضروریات پوری کرتے ہیں اور کم کاربن اخراج والی بجلی کی پیداوار میں ایک تہائی حصہ ڈالتے ہیں۔

پاکستان کے مؤقف کے مطابق جوہری توانائی ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور کم کاربن بجلی کی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے زور دیا کہ جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کے لیے ضروری تعاون اور تکنیکی وسائل تک رسائی میں ترقی پذیر ممالک کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔

قونصلر عاطف رضا نے کہا کہ شہری جوہری تعاون تک منصفانہ اور بلاامتیاز رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے عالمی جنوب کے ممالک کی معاشی ترقی کے لیے پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک کو بین الاقوامی عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

زیرِ التوا معاملات پر سیاسی کشیدگی سے گریز کی اپیل

پاکستانی نمائندے نے جوہری حفاظتی اقدامات اور عدم پھیلاؤ سے متعلق معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عدم تعمیل کے امور کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے آئی اے ای اے کے متعلقہ تکنیکی فورمز پر حل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق متعلقہ فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مکالمے کے ذریعے زیرِ التوا مسائل کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات کا حل جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ میں بھی مددگار ہونا چاہیے۔ انہوں نے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات سے گریز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں کشیدگی میں اضافے اور تصادم کے خطرات کو بڑھا سکتی ہیں۔

پاکستان نے اس مؤقف کے ذریعے جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں اور پُرامن جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی کے درمیان توازن پر زور دیا ہے۔ اس کے مطابق بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا اور زیرِ التوا معاملات کو تکنیکی و سفارتی طریقوں سے حل کرنا ضروری ہے۔

بین الاقوامی تعاون جاری رکھنے کا عزم

خطاب کے اختتام پر قونصلر سید عاطف رضا نے پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کو فروغ دینے اور امن، ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے آئی اے ای اے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان کے بیان میں ایک طرف جوہری عدم پھیلاؤ اور حفاظتی اقدامات کی اہمیت تسلیم کی گئی، جبکہ دوسری طرف اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ ذمہ داریاں پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کے فوائد سے استفادے کی راہ میں غیر ضروری رکاوٹ نہیں بننی چاہییں۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار آئی اے ای اے کے فورمز پر ہونے والی مشاورت، رکن ممالک کے تعاون اور زیرِ التوا معاملات کے حل کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار پر ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نمائندے کے بیان اور فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی اور عدم پھیلاؤ سے متعلق قانونی تقاضوں کی تشریح بین الاقوامی معاہدوں اور آئی اے ای اے کے متعلقہ طریقۂ کار کے تناظر میں کی جاتی ہے۔ پاکستان کے بیان میں منصفانہ رسائی، تکنیکی تعاون اور سفارت کاری کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔

ماخذ: پاکستان مشن برائے اقوامِ متحدہ، جوہری توانائی کا بین الاقوامی ادارہ، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی