

محمود احمد, October24,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء
ایرانی مسلح افواج کے سربراہ علی عبداللہی نے کہا ہے کہ امریکہ کے بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ توقع کہ امریکی فوج اور بحریہ دوبارہ اس خطے میں داخل ہوں گی، محض ایک خواب ہے۔ علی عبداللہی نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی صورت اور کسی بھی وقت امریکی فوجی جہازوں کو خلیجِ فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان بحری سرگرمیوں، آبنائے ہرمز کی صورت حال اور تیل کی عالمی ترسیل سے متعلق کشیدگی برقرار ہے۔ خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری علاقے ہیں، جہاں کسی بھی فوجی یا سکیورٹی پیش رفت کے اثرات بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
علی عبداللہی نے اپنے بیان میں امریکی بحری موجودگی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا، تاہم انہوں نے اس اعلان پر عمل درآمد کے لیے کسی مخصوص طریقۂ کار یا آئندہ اقدامات کی تفصیل فراہم نہیں کی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز سے متعلق دعویٰ
اس سے ایک روز قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے تقریباً 600 سے 700 کلومیٹر دور چلی گئی ہیں۔ ایرانی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران خلیجِ فارس میں امریکی بحری موجودگی کو محدود رکھنے کے حوالے سے اپنا سخت مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے۔
تاہم امریکی بحری جہازوں کی موجودہ پوزیشن، ان کی نقل و حرکت اور ایرانی دعوے کی آزادانہ تصدیق سے متعلق مکمل تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ دونوں ممالک کے بیانات کے درمیان فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے بحری سرگرمیوں کی صورت حال کا جائزہ مستند اور تازہ معلومات کی بنیاد پر لینا ضروری ہے۔
ٹرمپ کا ایران پر تیل کی قیمتیں بڑھانے کا الزام
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں اور جہازوں پر حملوں سے متعلق مبینہ جعلی خبریں پھیلا کر امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران مختلف اقدامات کے ذریعے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو بڑھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اس وقت آبنائے ہرمز سے زیادہ تیل گزر رہا ہے۔ امریکی صدر کے اس بیان میں تیل کی ترسیل کے حجم کے اعداد و شمار یا ان کے تقابل کی تفصیلی وضاحت شامل نہیں تھی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب توانائی کی عالمی منڈی میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کے باعث کسی بھی ممکنہ رکاوٹ یا فوجی تصادم کے خدشات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس گزرگاہ سے عالمی منڈیوں تک خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات پہنچائی جاتی ہیں، اس لیے یہاں کشیدگی بڑھنے سے جہاز رانی کے اخراجات، انشورنس اور تیل کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ تیل اور قدرتی گیس کی عالمی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جس کے ذریعے خلیجی ممالک کی توانائی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔
اگر اس علاقے میں فوجی کشیدگی بڑھے یا تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہو تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ ایشیا اور دیگر خطوں کے توانائی درآمد کرنے والے ممالک، تیل کی ترسیل سے وابستہ کمپنیوں اور عالمی منڈیوں کو بھی غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
فی الحال ایرانی فوجی قیادت کا بیان امریکی بحری موجودگی کے خلاف سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ ٹرمپ کے الزامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن تہران کی سرگرمیوں کو تیل کی قیمتوں اور امریکی سیاسی حالات سے جوڑ رہا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور بحری نقل و حرکت کے قابلِ اعتماد اعداد و شمار کے بغیر صورت حال کے تمام پہلوؤں پر حتمی نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: امریکی بحری جہازوں کو خلیجِ فارس میں داخل نہ ہونے دینے کا بیان ایرانی مسلح افواج کے سربراہ سے منسوب ہے۔ امریکی بحری جہازوں کے فاصلے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے بارے میں دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ ٹرمپ کا ایران پر تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کا الزام بھی ان کا بیان کردہ مؤقف ہے، ثابت شدہ حقیقت نہیں۔
ماخذ: ایرانی مسلح افواج کے سربراہ علی عبداللہی کا بیان، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا بیان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان