

محمود احمد, October19,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اکتوبر 2026ء
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے پاس ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں کرنے کی فنی اور عسکری صلاحیت موجود نہیں، تاہم واشنگٹن امریکی انتخابات سے قبل کچھ کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی نئی کارروائی، خواہ وہ محدود پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو، کا جواب پہلے سے زیادہ سخت دیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حسین محبی نے کہا کہ امریکہ اس پوزیشن میں نہیں کہ کوئی نیا تنازع شروع کرکے اس سے مزید کامیابیاں حاصل کر سکے۔ ان کے بقول، خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور آپریشنل صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ امریکی افواج کے لیے ایران کے خلاف نئی کارروائی کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔
حسین محبی نے دعویٰ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کا بیشتر حصہ غیر فعال ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج مسلسل دباؤ اور تھکاوٹ کا شکار ہیں اور بعض دستے ایران سے سینکڑوں کلومیٹر دور منتقل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری جہاز بھی خلیجِ فارس سے 700 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر موجود ہیں۔
یہ تمام دعوے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔ ان کی آزادانہ تصدیق کے لیے امریکی فوج یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات درکار ہیں۔
امریکی انتخابات اور ممکنہ فوجی کارروائی
حسین محبی نے فوجی حملے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکہ کے پاس نئی کارروائیاں کرنے کی مطلوبہ فنی اور عسکری صلاحیت نہیں، لیکن ممکن ہے کہ امریکی انتخابات قریب آنے کے باعث واشنگٹن کچھ کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
انہوں نے اس امکان کو نظرانداز نہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ اقدام کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق، اگر امریکہ نے دوبارہ کارروائی کی تو اس مرتبہ ایرانی ردعمل زیادہ سخت ہوگا۔
ترجمان نے اپنے بیان میں امریکی قیادت کے ممکنہ فیصلوں اور انتخابی ماحول کو بھی زیرِ بحث لایا، تاہم انہوں نے کسی مخصوص فوجی منصوبے، ممکنہ حملے کی تاریخ یا کسی طے شدہ امریکی کارروائی کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
توانائی کے عالمی بحران کا انتباہ
حسین محبی نے خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں دنیا کو توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود حملہ بھی ایسے حالات پیدا کر سکتا ہے جن کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کی رسد اور معیشت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ عالمی تیل اور گیس کی فراہمی کے لیے اہم خطہ ہے۔ یہاں فوجی کشیدگی بڑھنے سے توانائی کی تنصیبات، سمندری تجارتی راستوں اور جہاز رانی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اگر تیل یا گیس کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو تو عالمی منڈیوں میں قیمتوں اور رسد پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔
تاہم توانائی کے بحران کی شدت کا انحصار کسی ممکنہ کارروائی کے دائرے، اس کے دورانیے اور خطے کے اہم تجارتی راستوں پر پڑنے والے اثرات پر ہوگا۔ فی الحال ایرانی ترجمان نے اپنے انتباہ میں کسی مخصوص تنصیب یا تجارتی راستے کی نشاندہی نہیں کی۔
خطے میں کشیدگی برقرار
ایرانی ترجمان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی اور ممکنہ کارروائیوں کے خدشات پر توجہ مرکوز ہے۔ ایران کی جانب سے سخت ردعمل کی دھمکی اس بات کا اظہار ہے کہ تہران کسی نئی کارروائی کی صورت میں جوابی اقدامات کے امکان کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کی فوجی صلاحیت، خطے میں اس کے اڈوں کی عملی حالت اور بحری جہازوں کی موجودگی کے بارے میں ایرانی دعووں کی تصدیق کے لیے مزید قابلِ اعتماد معلومات ضروری ہیں۔ کسی ممکنہ حملے یا جوابی کارروائی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے متعلقہ فریقوں کے بیانات اور زمینی صورتِ حال کا جائزہ لینا اہم ہوگا۔
آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے سرکاری بیانات، فوجی نقل و حرکت اور سفارتی رابطوں پر نظر رکھی جائے گی، کیونکہ ان عوامل سے خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: امریکہ کی عسکری صلاحیت، فوجی اڈوں کی حالت اور بحری جہازوں کے فاصلے سے متعلق معلومات ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے دعووں پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہوتی۔ توانائی کے عالمی بحران کا انتباہ بھی ایک ممکنہ صورتِ حال سے متعلق بیان ہے، نہ کہ کسی یقینی نتیجے کی تصدیق۔
ماخذ: ایرانی میڈیا، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی کا بیان