Latest news

آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگنے کا ایرانی دعویٰ، برینٹ خام تیل 111 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

Spread the love

محمود احمد, October20,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اکتوبر 2026ء

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں مبینہ طور پر غیر قانونی گزرگاہ استعمال کرنے والے دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے اور انہیں سمندر میں رکنا پڑا۔ ایرانی ادارے کے مطابق یہ واقعہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں پیش آیا، جہاں اس کی بحریہ نے بارودی سرنگیں بچھا رکھی تھیں۔ تاہم بحری جہازوں پر دھماکوں اور آگ لگنے کی اطلاعات کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں جہاز ایک ایسی گزرگاہ سے گزر رہے تھے جسے ایران نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ بیان کے مطابق بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی اور وہ اپنی جگہ رک گئے۔

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خبردار کیا کہ بارودی سرنگوں سے بھری گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایرانی بیان میں اس کارروائی کو اپنی سمندری حدود اور مقرر کردہ راستوں کی خلاف ورزی کے خلاف اقدام قرار دیا گیا۔

تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دونوں تیل بردار جہاز کن ممالک کے تھے، ان پر کتنا تیل لدا ہوا تھا، ان کے عملے کے افراد کی تعداد کتنی تھی یا واقعے میں کوئی شخص زخمی ہوا۔ جہازوں کی شناخت اور نقصان کی تفصیلات سامنے نہ آنے کے باعث واقعے کے ممکنہ اثرات کا مکمل اندازہ لگانا فی الحال ممکن نہیں۔

بحری سلامتی کے اداروں سے آزادانہ تصدیق نہیں

بحری جہازوں کی حفاظت اور سمندری واقعات کی نگرانی کرنے والے اداروں نے، جن میں برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی بھی شامل ہے، فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان دھماکوں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ اس لیے واقعے سے متعلق ایرانی بیان اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ معلومات میں فرق رکھنا ضروری ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ خلیج فارس سے نکلنے والے تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کے متعدد جہاز اسی راستے سے گزرتے ہیں۔ اس علاقے میں بارودی سرنگوں، حملوں یا جہاز رانی پر پابندیوں کی اطلاعات سے تجارتی جہازوں اور انشورنس کمپنیوں کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

اگر اس گزرگاہ میں جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات تیل کی ترسیل، جہازوں کے کرایوں، بیمے کے اخراجات اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔ تاہم کسی مخصوص واقعے کے نتیجے میں قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی کا تعین کرنے کے لیے مارکیٹ کے دیگر عوامل اور مستند اعدادوشمار کا جائزہ بھی ضروری ہے۔

تیل کی قیمت پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر

آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کی اطلاعات اور سعودی عرب و حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ کاروبار کے ابتدائی اوقات میں برینٹ خام تیل کی قیمت پانچ ماہ میں پہلی مرتبہ 111 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کا خدشہ اہم عوامل میں شامل ہو سکتا ہے۔ اگر خلیج فارس سے تیل لے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت محدود ہوتی ہے یا انہیں متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں تو ترسیل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں خریداروں اور تجارتی اداروں کو مستقبل میں تیل کی دستیابی کے بارے میں غیر یقینی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان ممالک کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل بڑھ سکتا ہے اور اس کے اثرات ایندھن، ٹرانسپورٹ اور دیگر اشیا کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم مقامی قیمتوں میں تبدیلی کا انحصار متعلقہ ملک کی پالیسیوں، ٹیکسوں، زرِمبادلہ کی شرح اور دیگر عوامل پر بھی ہوتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اور ممکنہ خطرات

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی کی تجارت میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی بڑی رکاوٹ سے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

بارودی سرنگوں کی موجودگی کی تصدیق ہونے کی صورت میں جہازوں کو محفوظ راستوں کی نشاندہی، بارودی مواد کی تلاش اور ممکنہ کلیئرنس کے لیے اضافی اقدامات درکار ہو سکتے ہیں۔ اس عمل سے جہاز رانی میں تاخیر اور سکیورٹی اخراجات میں اضافہ ممکن ہے۔ تاہم موجودہ واقعے میں بارودی سرنگوں کے استعمال اور جہازوں کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

خطے میں کشیدگی بڑھنے سے نہ صرف تیل بردار جہاز بلکہ دیگر تجارتی بحری جہاز بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ جہاز رانی کی کمپنیوں کو اپنے راستوں اور حفاظتی انتظامات کا دوبارہ جائزہ لینا پڑ سکتا ہے، جبکہ توانائی کی منڈیوں میں سرمایہ کار ممکنہ رسدی رکاوٹوں کے خدشات کے باعث قیمتوں میں تبدیلی پر ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔

آئندہ صورتِ حال پر نظر

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے بعد اہم سوالات یہ ہیں کہ آیا دونوں جہازوں کی شناخت سامنے آتی ہے، واقعے کی آزادانہ تصدیق ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے یا نہیں۔ اسی طرح عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کا آئندہ رخ اس بات سے بھی جڑا ہوگا کہ خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے یا مزید بڑھتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: دو تیل بردار جہازوں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے اور آگ لگنے کی خبر فی الحال ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے دعوے پر مبنی ہے؛ آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 111 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کی اطلاع فراہم کردہ خبر میں شامل ہے، جبکہ اس اضافے کو کسی ایک واقعے کا نتیجہ قرار دینے کے لیے مزید مارکیٹ شواہد درکار ہیں۔

ماخذ: ایرانی پاسدارانِ انقلاب، برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی، عالمی توانائی کی منڈیوں سے متعلق دستیاب معلومات