Latest news

اسحاق ڈار: ایران حوثیوں اور عراقی مسلح گروہوں سے لاتعلقی کا اظہار کر رہا ہے

Spread the love

منصور احمد,October02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اکتوبر 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران نے یمن کے حوثیوں اور عراق میں موجود مسلح گروہوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان گروہوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ اس معاملے پر ان کی گفتگو ہوئی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ عباس عراقچی نے حوثیوں اور عراقی مسلح گروہوں کے خلاف حملوں کے بجائے ان کے ساتھ سیاسی رابطے اور بات چیت کی تجویز دی ہے۔ تاہم پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق اس معاملے میں حتمی فیصلہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی (ایس پی ڈی سی) کرے گی۔

اسحاق ڈار کے مطابق کمیٹی کا اجلاس آئندہ چند روز میں سعودی عرب میں متوقع ہے، جس میں موجودہ علاقائی صورتحال بالخصوص سعودی عرب میں ہونے والے حملوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق مشاورت جاری ہے

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس معاہدے کا فریق ہے اور بطور مسلمان اس کی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے گا۔ ان کے مطابق معاہدے کے تحت آئندہ اقدامات کا فیصلہ متعلقہ کمیٹی کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ کم از کم چھ ممالک نے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم نئے ممالک کی شمولیت کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق معاہدے کے سیکریٹریٹ کو مکمل طور پر فعال کرنے کے بعد ہی کسی نئی درخواست پر کارروائی ممکن ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی دستاویز میں اس کی نوعیت کو دفاعی قرار دیا گیا ہے اور اس کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں ہے۔ معاہدے میں دیگر ممالک کے لیے مستقبل میں شمولیت کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

مکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت شامل ہے۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس اگست میں استنبول میں ہوا تھا، جبکہ آئندہ اجلاس میں موجودہ علاقائی سکیورٹی صورتحال پر مزید مشاورت متوقع ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ایران کی جانب سے حوثیوں اور عراقی مسلح گروہوں سے لاتعلقی اور سیاسی رابطے کی تجویز سے متعلق بات اسحاق ڈار کے بیان پر مبنی ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت آئندہ اقدامات کا حتمی فیصلہ متعلقہ کمیٹی کرے گی، اس لیے کسی ممکنہ فوجی یا سفارتی اقدام کو اس مرحلے پر حتمی فیصلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

ماخذ: دفتر خارجہ پاکستان، فراہم کردہ رپورٹ