

منصور احمد,September 19,2026
کوہاٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 19 ستمبر 2026ء
کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد کو نشانہ بنائے جانے والے المناک دھماکے اور اس کے بعد پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہونے والے مسلح حملہ آوروں کے خلاف سکیورٹی فورسز، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور ایلیٹ فورس کا مشترکہ کلیئرنس آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس کے حکام کے مطابق تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس طویل اور دشوار گزار کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 8 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا، جس کے بعد پولیس لائنز کی تمام اہم عمارتوں کا کنٹرول بحال کر کے علاقے کو محفوظ قرار دے دیا گیا ہے۔
پولیس کی جاری کردہ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے ابتدائی حملہ پولیس لائنز کی مسجد کے قریب دھماکے سے کیا، جس کے فوراً بعد مسلح حملہ آور پولیس کمپاؤنڈ کی حد میں داخل ہو گئے تھے۔ سکیورٹی اہلکاروں کی فوری جوابی کارروائی میں متعدد دہشت گرد شروع ہی میں مارے گئے، جبکہ عمارت کے اندر گھس کر چھپ جانے والے آخری حملہ آور کے خلاف حتمی اور ٹارگٹڈ آپریشن کر کے اسے بھی ہلاک کر دیا گیا۔ اس المناک و بزدلانہ واقعے میں 15 فرائض شناس پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 21 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ دھماکے کی شدت سے مسجد اور کمپاؤنڈ کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب، زرائع کے مطابق اس دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری حافظ گل بہادر کی قیادت والے اتحاد ’’اتحاد المجاہدین‘‘ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ اور باضابطہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ سکیورٹی فورسز اور اعلیٰ پولیس حکام نے آپریشن میں حصہ لینے والے بہادر اہلکاروں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ واقعے کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور تمام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
کوہاٹ پولیس لائنز میں آپریشن کی تکمیل، 8 دہشت گردوں کی ہلاکت اور جانی نقصان کی تفصیلات خیبر پختونخوا پولیس اور سرکاری ذرائع پر مبنی ہیں۔ ‘اتحاد المجاہدین’ کی جانب سے ذمہ داری کے دعوے کی سکیورٹی اداروں کی جانب سے حتمی تحقیقات جاری ہیں۔
ماخذ: کرائم اینڈ ڈیفنس ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز کوہاٹ / اسلام آباد۔