

کاشف عباسی ,October11,2026
کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء
آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی کے چیئرمین علی احمد کرد اور بلوچستان بار کونسل کے عہدیدار راحب خان بلیدی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کے منافی قرار دیا ہے۔ دونوں وکلا رہنماؤں نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس کے خلاف آئندہ کا لائحۂ عمل طے کیا جائے گا۔
ایک مشترکہ مذمتی بیان میں علی احمد کرد اور راحب خان بلیدی نے گورنر راج کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کیا اور اسے ’’بدترین آمریت‘‘ کی مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے جمہوریت، عوامی نمائندگی اور آئینی اصولوں سے متعلق سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی جمہوریت سے متعلق پالیسیوں پر بھی تنقید کی گئی۔ وکلا رہنماؤں نے کہا کہ ان جماعتوں کا جمہوری طرزِ عمل عوام کے سامنے عیاں ہو چکا ہے اور ان کے بقول خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔
گورنر راج کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا
علی احمد کرد اور راحب خان بلیدی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کو غیر آئینی اقدام قرار دیتے ہوئے اسے قبول کرنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف آئندہ کے اقدامات پر مشاورت کی جائے گی اور مناسب لائحۂ عمل مرتب کیا جائے گا۔
وکلا رہنماؤں کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی آئینی صورت حال پر وکلا برادری کے بعض حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ اس معاملے میں آئینی اختیار، عوامی نمائندگی اور حکومتی فیصلوں کے قانونی جواز پر بحث مزید آگے بڑھ سکتی ہے۔
آئینی اور سیاسی تناظر
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر مختلف سیاسی اور قانونی حلقوں کے ردعمل کے تناظر میں وکلا رہنماؤں کا یہ بیان اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم گورنر راج کے آئینی جواز کا تعین متعلقہ قانونی دفعات، سرکاری فیصلے اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔
وکلا رہنماؤں نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر آئندہ کا لائحۂ عمل طے کریں گے، لیکن فراہم کردہ متن میں احتجاج، قانونی چارہ جوئی یا کسی دوسرے اقدام کے لیے حتمی تاریخ یا طریقۂ کار نہیں بتایا گیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
اس خبر میں وکلا رہنماؤں کے سیاسی اور قانونی مؤقف کو ان سے منسوب کیا گیا ہے۔ گورنر راج کو غیر آئینی قرار دینا ان کا مؤقف ہے؛ اس کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین متعلقہ آئینی و قانونی مواد کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔ تصاویر نمائندہ ہیں اور واقعے یا بیان کی اصل تصاویر ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ماخذ: آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی، بلوچستان بار کونسل میڈیا سیل، کوئٹہ/اسلام آباد نیوز ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔