Latest news

حوثیوں نے ریاض ایئرپورٹ حملے کی ذمہ داری قبول کرلی، سعودی ہوائی اڈوں کے استعمال سے گریز کی تنبیہ

Spread the love

محمود احمد, October11,2026

صنعا/ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء

یمن کے حوثی گروہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہفتے کے روز ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں سعودی ہوائی اڈوں کے استعمال سے گریز کی تنبیہ بھی دہرائی اور کہا کہ یہ کارروائی یمن کے خلاف سعودی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

حوثیوں کے ترجمان نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے زیرِ کنٹرول یمنی علاقوں پر 124 فضائی حملے کیے۔ ان کے مطابق سعودی کارروائیوں کے جواب میں حوثیوں نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں، جن میں ریاض کے ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔

تاہم سعودی حکام کی جانب سے ان الزامات اور حوثیوں کے بیان میں بیان کردہ تمام کارروائیوں کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔ اس لیے حملوں کی تعداد، اہداف اور ان سے ہونے والے نقصان سے متعلق دعوؤں کو حوثی ترجمان کے مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

متعدد سعودی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

یحییٰ سریع کے مطابق حوثیوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں چار کارروائیاں کیں۔ ان کے بیان میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تین مراحل میں حملوں، شُگدم گیس فیسلٹی، آرامکو کی تنجیب آئل ریفائنری اور دمام میں کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے دعوے شامل ہیں۔

بیان میں ان کارروائیوں کے لیے استعمال کیے گئے ہتھیاروں، ممکنہ جانی نقصان یا تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان مقامات پر حملوں سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق بھی ضروری ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم توانائی تنصیبات کے بارے میں ایسے بیانات خطے کی سکیورٹی اور شہری ہوابازی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی مخصوص ہوائی اڈے یا تنصیب کی موجودہ سکیورٹی صورت حال کے بارے میں فیصلہ متعلقہ حکام کی مستند معلومات کی بنیاد پر ہی کیا جانا چاہیے۔

سعودی ہوائی اڈوں کے لیے تنبیہ

حوثی ترجمان نے اپنے بیان میں بین الاقوامی کمپنیوں، ماہرین، ملازمین، کارکنوں اور مسافروں سے کہا کہ وہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں نہ چلائیں اور نہ ہی ان کا استعمال کریں۔ ان کے دعوے کے مطابق مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کو اس تنبیہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں سے متعلق دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ان حالات میں شہری ہوابازی، توانائی کی تنصیبات اور بحری و فضائی تجارتی راستوں کی سکیورٹی پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

تاہم حوثیوں کی جانب سے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے، سعودی فضائی حملوں کی تعداد اور مختلف تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ سعودی حکام کا ردعمل اور متعلقہ تنصیبات کی صورت حال مزید واضح ہونے پر واقعے کی مکمل تصویر سامنے آ سکے گی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

حوثیوں کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے اور سعودی عرب کے 124 فضائی حملوں کے دعوے کو ترجمان سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان دعوؤں، مبینہ اہداف اور ممکنہ نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ تصاویر نمائندہ ہیں، انہیں ان حملوں کی اصل تصاویر نہ سمجھا جائے۔

ماخذ: حوثی میڈیا سیل، المسیرہ نیٹ ورک، بین الاقوامی سیکیورٹی رپورٹس / نیوز اینڈ نیوز ریاض/صنعا۔