Latest news

عراق نے ایران کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہ بند کر دی، شلمچہ پر بھی آمدورفت متاثر ہونے کی اطلاعات

Spread the love

محمود احمد, October21,2026

بغداد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اکتوبر 2026ء

عراق نے ایران کے ساتھ چذابہ سرحدی گزرگاہ کو مسافروں، گاڑیوں اور تجارتی ٹرکوں کے لیے بند کر دیا ہے، جبکہ شلمچہ سرحدی گزرگاہ پر بھی کئی گھنٹوں سے آمدورفت معطل یا متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سرحدی راستوں کی بندش سے دونوں ممالک کے درمیان مسافروں کی نقل و حرکت اور تجارتی سامان کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم عراقی حکومت نے تاحال اس فیصلے کی وجوہات کے بارے میں کوئی جامع باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق چذابہ گزرگاہ کی بندش کا فیصلہ سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا ہے۔ عراقی سرکاری ذرائع سے منسوب اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہ گزرگاہ بدھ سے تکنیکی وجوہات کی بنا پر مزید اطلاع تک بند ہے۔ چذابہ عراق اور ایران کے درمیان مسافروں اور تجارتی سامان کی آمدورفت کے اہم راستوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے اس کی بندش سے سرحدی علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

عراق کی سرحدی پالیسی میں اس تبدیلی کے ساتھ شلمچہ گزرگاہ کے بارے میں بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایک عراقی سرکاری اہلکار کے مطابق ملک کے وزیرِاعظم نے شلمچہ کو مزید اطلاع تک بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اسی اہلکار نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں عراق اور ایران کے درمیان بعض دیگر سرحدی گزرگاہیں مرحلہ وار بند کی جا سکتی ہیں۔

سکیورٹی اور تکنیکی وجوہات کا ذکر

عراقی خبر رساں ویب سائٹ شفق نیوز نے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ چذابہ گزرگاہ کو تکنیکی وجوہات کی بنا پر بند کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ذرائع سے منسوب اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ گزرگاہ کے اندر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ بھی اس فیصلے کا ایک مقصد ہے۔

تاہم عراقی حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ بندش کا تعلق کسی مخصوص سکیورٹی خطرے، انتظامی تبدیلی یا بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسئلے سے ہے۔ اس لیے بندش کی حتمی وجہ کے بارے میں مزید سرکاری وضاحت کا انتظار ہے۔

عرب میڈیا میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ عراقی حکام ایران کے ساتھ متعدد مرکزی سرحدی گزرگاہوں کو بند کرنے پر غور کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت کو صرف دو راستوں تک محدود کر دیا جائے۔ بغداد اور تہران کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اگر مزید گزرگاہیں بند کی جاتی ہیں تو اس سے سرحدی تجارت کے راستوں، سامان کی ترسیل کے اوقات اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ آیا عراق نے دیگر گزرگاہوں کی بندش کا کوئی حتمی فیصلہ کیا ہے۔

زرعی پیداوار سے لدے ایرانی ٹرکوں کا معاملہ

سرحدی بندش سے متعلق اطلاعات کے درمیان ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے منگل کو رپورٹ کیا تھا کہ عراق نے ایرانی زرعی پیداوار لے جانے والے ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیاز، ٹماٹر اور آلو لے جانے والے متعدد ٹرک کئی روز سے ایران عراق سرحد پر رکے ہوئے تھے۔

اس اطلاع سے یہ تاثر ملا تھا کہ کم از کم زرعی سامان کی ترسیل کے حوالے سے کچھ نرمی کی گئی ہے۔ تاہم اس کے تقریباً ایک گھنٹے پہلے سوشل میڈیا پر بعض ٹرک ڈرائیوروں کے احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں۔ ایک ویڈیو میں ایک ڈرائیور احتجاجاً اپنی گاڑی سے زرعی پیداوار زمین پر پھینکتا دکھائی دیتا ہے۔

ان ویڈیوز کی تمام تفصیلات اور ان میں دکھائے گئے واقعات کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات میں شامل نہیں۔ تاہم یہ اطلاعات اس مسئلے کی جانب توجہ دلاتی ہیں کہ سرحدی بندش سے خراب ہونے والی زرعی اشیا کے باعث تاجروں اور ڈرائیوروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پیاز، ٹماٹر اور آلو جیسی جلد خراب ہونے والی اشیا کی نقل و حمل میں تاخیر سے سامان کے معیار اور فروخت کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر ٹرک کئی روز تک سرحد پر رکے رہیں تو تاجروں کے لیے اضافی اخراجات اور نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

سرحدی تجارت پر ممکنہ اثرات

عراق اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہیں تجارتی سامان، زرعی پیداوار اور مسافروں کی آمدورفت کے لیے اہم ہیں۔ ان راستوں میں تعطل سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں کاروبار کرنے والے تاجروں اور چھوٹے کاروباری اداروں کو بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

چذابہ اور شلمچہ کی بندش سے متعلق اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب مختلف سرکاری اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں سرحدی انتظامات کے بارے میں مختلف تفصیلات بیان کی جا رہی ہیں۔ ایک طرف زرعی پیداوار سے لدے بعض ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ملنے کی اطلاع ہے، جبکہ دوسری جانب اہم گزرگاہوں کی بندش یا آمدورفت میں تعطل کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

اس صورتِ حال میں مسافروں، تاجروں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سفر یا سامان روانہ کرنے سے پہلے متعلقہ سرحدی حکام سے تازہ معلومات حاصل کریں۔ کسی گزرگاہ کی بندش یا محدود اجازت کے باعث سفر کے منصوبوں اور تجارتی ترسیل میں اچانک تبدیلی آ سکتی ہے۔

بغداد اور تہران کے باضابطہ مؤقف کا انتظار

عراق کی جانب سے چذابہ اور شلمچہ گزرگاہوں کی بندش کی وجوہات اور مدت کے بارے میں واضح سرکاری معلومات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ اسی طرح دیگر سرحدی راستوں کو بند کرنے کی اطلاعات کی بھی دونوں حکومتوں نے تصدیق نہیں کی۔

آئندہ صورتِ حال کا انحصار عراقی حکام کے فیصلوں، سکیورٹی جائزے اور ایران کے ساتھ سرحدی انتظامات سے متعلق رابطوں پر ہوگا۔ اگر گزرگاہیں طویل عرصے تک بند رہتی ہیں تو اس کے اثرات تجارتی سامان کی ترسیل، زرعی پیداوار کی فروخت اور دونوں ممالک کے درمیان روزمرہ آمدورفت پر مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: چذابہ اور شلمچہ گزرگاہوں کی بندش سے متعلق معلومات سرکاری ذرائع سے منسوب رپورٹوں پر مبنی ہیں، جبکہ عراقی حکومت نے تاحال فیصلے کی مکمل وجوہات کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ زرعی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ملنے اور دیگر گزرگاہوں کی ممکنہ بندش کے بارے میں اطلاعات میں فرق موجود ہے، اس لیے تازہ سرکاری وضاحت اہم ہوگی۔

ماخذ: عراقی سرکاری ذرائع، شفق نیوز، عراقی وزارتِ داخلہ، ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی