Latest news

غیر مصدقہ الزامات بھارت کے بیانیے کی قلعی کھولتے ہیں، مسعود خان

Spread the love

محمود احمد, October03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اکتوبر 2026ء

آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ریٹائرڈ پاکستانی فوجی محمد آصف کی زندہ موجودگی نے ان دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں جن میں انہیں بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ہلاک ہونے والا عسکریت پسند قرار دیا گیا تھا۔

ہفتہ کو جاری اپنے بیان میں سردار مسعود خان نے کہا کہ اس واقعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حساس سکیورٹی واقعات سے متعلق معلومات کو عوام کے سامنے لانے سے قبل ان کی مناسب اور آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایسے دعوے، خصوصاً پاکستان اور بھارت کے تعلقات سے متعلق معاملات میں، احتیاط کے ساتھ رپورٹ کیے جانے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا اداروں کی ذمہ داری ہے کہ حکومتی یا عسکری حکام سے منسوب معلومات سمیت تمام اہم دعوؤں کی سچائی کی جانچ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حساس نوعیت کے معاملات میں متعدد ذرائع سے تصدیق کی جانی چاہیے اور جہاں معلومات مکمل طور پر واضح نہ ہوں وہاں اس غیر یقینی صورتحال کو بھی نمایاں کیا جانا چاہیے۔

سردار مسعود خان نے اس واقعے کو پاکستان کے خلاف مبینہ ’’معلوماتی جنگ‘‘ اور بیانیہ سازی کے وسیع تر تناظر سے جوڑا۔ انہوں نے پلوامہ، اوڑی اور پہلگام کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر عائد کسی بھی الزام کی بنیاد قابلِ تصدیق شواہد پر ہونی چاہیے اور حقائق کے تعین سے قبل کسی نتیجے کو حتمی شکل نہیں دی جانی چاہیے۔

انہوں نے پاکستان کے خلاف مبینہ مربوط معلوماتی مہمات سے متعلق سابقہ رپورٹس اور تحقیقات کا بھی حوالہ دیا۔ ان میں 2020 میں یورپی یونین کے ایک تحقیقی منصوبے کی جانب سے بعض ویب سائٹس اور میڈیا پلیٹ فارمز کے نیٹ ورک سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹ بھی شامل تھی۔ مسعود خان کے مطابق ان کے خیال میں ایسی سرگرمیوں کا مقصد پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کرنا اور مسئلہ کشمیر پر اس کے مؤقف کو کمزور کرنا تھا۔

سابق سفیر نے کہا کہ حالیہ واقعے کا وقت بھی اہم ہے، خصوصاً اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں۔ ان کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور ایسے حالات میں غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ کے ممکنہ اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ پاکستان اور بھارت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو شواہد، تسلیم شدہ تفتیشی طریقہ کار اور ذمہ دارانہ ابلاغ پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی یا سرحد پار مداخلت سے متعلق الزامات قابلِ اعتماد شواہد کے ساتھ سامنے آنے چاہییں اور مناسب طریقہ کار کے تحت ان کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سردار مسعود خان کا بیان ان کے اپنے مؤقف اور فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ محمد آصف سے متعلق بھارتی دعوے اور ان کی موجودگی کے بارے میں تفصیلات کو اس خبر میں مسعود خان سے منسوب کیا گیا ہے؛ خبر میں ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر حتمی تصدیق کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔

ماخذ: اے پی پی، سردار مسعود خان کا بیان