

منصور احمد,October03,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اکتوبر 2026ء
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قصور کے قریب پاک بھارت بین الاقوامی سرحد پر بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔
پیپلز پارٹی میڈیا سیل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نہتے پاکستانی شہریوں کو فائرنگ کا نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والے شہریوں عظمت رسول اور محسن جٹ کے اہلخانہ کے غم میں برابر کا شریک ہونے کا اظہار کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بین الاقوامی سرحد پر شہریوں کو نشانہ بنانا انسانی جان کی حرمت اور طے شدہ سرحدی ضوابط سے متعلق سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے حوالے سے سامنے آنے والے مختلف دعوؤں کو حقائق اور شواہد کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔
پیپلز پارٹی چیئرمین نے اپنے بیان میں بھارت کی جانب سے واقعے سے متعلق پیش کیے جانے والے مؤقف پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے معاملے کو کسی بھی دوسرے بیانیے کے ذریعے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے قوم متحد ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے بھارت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی سرحد پر طے شدہ ضوابط اور انسانی جان کے احترام کو یقینی بنائے۔ انہوں نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں فریقین کی جانب سے احتیاط اور ذمہ داری کے مظاہرے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ واقعہ 2 اکتوبر کو قصور کے قریب بین الاقوامی سرحد پر پیش آیا تھا، جہاں پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق تین مقامی شہریوں پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ جاں بحق افراد کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے نام سے کی گئی ہے۔
واقعے کے بارے میں پاکستان اور بھارت کے مؤقف میں اختلاف ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق تینوں افراد غیر مسلح تھے اور انہوں نے سرحدی باڑ عبور نہیں کی تھی، جبکہ بھارتی جانب سے واقعے کو سرحد پار کرنے کی کوشش سے جوڑا گیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
بلاول بھٹو زرداری کا مذمتی بیان پیپلز پارٹی میڈیا سیل اور اے پی پی کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ہے۔ سرحدی واقعے کے حالات سے متعلق پاکستان اور بھارت کے مؤقف مختلف ہیں، اس لیے متنازع تفصیلات کو متعلقہ فریقین سے منسوب کرکے بیان کیا گیا ہے۔
ماخذ: اے پی پی، پیپلز پارٹی میڈیا سیل، ریڈیو پاکستان