

محمود احمد, September 20,2026
ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 20 ستمبر 2026ء
روس کے دارالحکومت ماسکو اور اس کے گرد و نواح پر اب تک کے سب سے بڑے اور بے مثال ڈرون حملوں میں کم از کم 2 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ماسکو کی اہم ترین آئل ریفائنری کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا ہے۔ یہ حملے روس میں تین روز سے جاری پارلیمانی انتخابات کے آخری روز کیے گئے، جس پر روسی حکام نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا ہے۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین کے مطابق روسی ایئر ڈیفنس نے مختلف محاذوں پر 1,600 سے زیادہ ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنایا ہے، جن میں سے تقریباً 450 ڈرون براہِ راست دارالحکومت ماسکو کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔
ان ڈرون حملوں کے نتیجے میں ماسکو کے قریبی ضلع رامنسکوئے میں واقع ایک 21 منزلہ رہائشی عمارت شدید متاثر ہوئی، جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے 70 بچوں سمیت 400 سے زائد مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اس کے علاوہ، توانائی کی پیداوار کے لیے کلیدی حیثیت رکھنے والی ماسکو آئل ریفائنری کے احاطے میں متعدد ڈرونز گرنے سے دھماکے سنے گئے اور دھوئیں کے گہرے بادل فضا میں بلند ہوتے دیکھے گئے، تاہم ریفائنری کو پہنچنے والے باضابطہ مالی اور فنی نقصان کا حتمی تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
یہ عسکری پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے توانائی کی تنصیبات پر حملے نہ کرنے کی تجاویز کے باوجود فریقین کے درمیان توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں شدید تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ یوکرین کی جانب سے ان تازہ حملوں کی ذمہ داری پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم روس کے داخلی ایندھن کی فراہمی اور قیمتوں پر ان حملوں کے متوقع اثرات کی وجہ سے خطے کی توانائی مارکیٹ پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
حملے کو انتخابی عمل میں خلل قرار دینا اور ڈرونز کی تعداد (1,600 سے زائد) کے اعداد و شمار روسی حکام کے باضابطہ موپ اپ بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ یوکرینی حکام کی جانب سے اس مخصوص کارروائی پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
ماخذ: انٹرنیشنل ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز ماسکو / اسلام آباد۔