Latest news

حوثی وزارتِ خارجہ کا حملوں کے جواب کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان، تعز اور طائف میں خونریز جھڑپوں اور ڈرون حملوں کی اطلاعات

Spread the love

محمود احمد, September 19,2026

صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 19 ستمبر 2026ء

یمن کی حوثی انتظامیہ کی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ دوبارہ بڑھتی ہوئی شدید فوجی کشیدگی کے تناظر میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی اقدامات کے خلاف اپنی اخلاقی اور بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔ حوثی وزارتِ خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں سعودی عسکری کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گروپ کو ہر اس اقدام کا جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے جسے وہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘ارنا’ کے مطابق، حوثی ٹیلی ویژن چینل ‘المسیرہ’ پر جاری بیان میں حوثی قیادت نے واضح کیا کہ وہ اپنے تحفظ کے لیے تمام ضروری جواب دہ اقدامات اٹھانے کے لیے مکمل تیار ہے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن میں ڈرون و میزائل حملوں اور زمینی جنگ میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ حوثی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب نے ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر 26 حملے کیے، جبکہ گزشتہ ایک ہفتے میں ان حملوں کی مجموعی تعداد 300 تک پہنچ چکی ہے۔ دوسری جانب سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تعز کے علاقے میں شدید جھڑپوں کے دوران 30 حوثی جنگجو ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔ علاوہ ازیں، سعودی عرب کے شہر طائف میں بھی حوثی ڈرون کو فضا میں تباہ کرنے کے بعد اس کا ملبہ گرنے سے ایک شخص کی ہلاکت اور دو افراد کے زخمی ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں، تاہم حوثیوں نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے سعودی الزامات کی تردید کی ہے۔

یمن میں جاری اس تازہ تنازع اور بحیرہ احمر و باب المندب کے قریب عسکری تحرک نے عالمی تجارت اور بحری سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے جہاز رانی کو لاحق خطرات اور سرحد پار حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری فریقین کو کشیدگی کم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دریں اثنا، پاکستان، ترکیہ، اور چین سمیت مختلف ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے خطے میں جنگ بندی اور امن و امان کی بحالی کے لیے کاوشیں کر رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ رپورٹ یمنی حوثی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیانات اور بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے فراہم کردہ معتبر اعداد و شمار پر مبنی ہے۔

ماخذ: مڈل ایسٹ اینڈ انٹرنیشنل ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز صنعا / اسلام آباد۔