

محمود احمد, October07,2026
کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 7 اکتوبر 2026ء
کراچی میں پراسرار حالات میں جاں بحق ہونے والے تاجر میر رضا علی کے کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کا مرحلہ مکمل کرلیا ہے۔ جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن نے پولیس تفتیش، جائے وقوعہ، ڈیجیٹل شواہد، فرانزک رپورٹس اور مالی معاملات سمیت کیس کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
کمیشن کے سامنے مجموعی طور پر 49 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ حسن تنولی اور صارم بن طاہر کے بیانات ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے قلم بند کیے گئے۔
سماعت کے دوران کمیشن نے پولیس کی تفتیش، کرائم سین کے ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیجز، جیو فینسنگ، موبائل فون، ایپل واچ، پوسٹ مارٹم رپورٹس اور کرپٹو اکاؤنٹس سے متعلق تفتیشی افسران سے متعدد سوالات کیے۔
پولیس تفتیش پر سوالات
کمیشن نے ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، ڈی آئی جی شرقی فرخ لنجار اور ڈی آئی جی عامر فاروقی سے بھی تحریری جوابات طلب کیے، جو تینوں افسران نے سیل بند لفافوں میں جمع کرا دیے۔
تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری سے پولیس کی جانب سے ریکارڈ کیے گئے گواہوں کے بیانات کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ بعض گواہوں نے بعد میں اپنے سابقہ بیانات کے کچھ حصوں سے لاعلمی یا اختلاف کا اظہار کیا، جبکہ کچھ گواہوں کے مطابق انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے نام سے کیا بیان درج کیا گیا۔
کمیشن نے سوال اٹھایا کہ گواہوں سے صرف مالی لین دین سے متعلق سوالات پر توجہ کیوں دی گئی اور ممکنہ دیگر محرکات کا جائزہ کیوں نہیں لیا گیا۔ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ پولیس نے قتل سمیت تمام ممکنہ پہلوؤں سے تفتیش کی۔
جائے وقوعہ اور ڈیجیٹل شواہد
کمیشن نے جائے وقوعہ کے ریکارڈ میں موجود بعض تضادات پر بھی سوالات اٹھائے۔ کرائم سین یونٹ کی آمد کے اوقات اور پولیس میموز میں فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے پوچھا گیا کہ آیا جائے وقوعہ پر آگ لگانا پولیس پروٹوکول کا حصہ تھا۔ تفتیشی افسر نے واضح کیا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
کمیشن نے اس معاملے پر شواہد کے ممکنہ طور پر متاثر یا تبدیل ہونے سے متعلق بھی سوال اٹھایا اور ذمہ داری کے تعین کی ضرورت پر زور دیا۔
سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی کے نمائندے نے بتایا کہ جیو فینسنگ کا 48 گھنٹوں کا ڈیٹا حاصل کیا گیا اور ہزاروں نمبروں کا جائزہ لینے کے باوجود ایسی مشکوک سرگرمی سامنے نہیں آئی جس سے کسی مخصوص شخص کو واقعے سے جوڑا جاسکے۔
ایپل واچ اور موبائل فون کی تحقیقات
تحقیقات کے دوران میر رضا کی ایپل واچ بھی زیر بحث آئی۔ تفتیشی افسر کے مطابق فرانزک رپورٹ کے تحت واچ پر آخری سرگرمی صبح 4 بج کر 22 منٹ پر ریکارڈ ہوئی تھی۔
وکیل جبران ناصر نے نشاندہی کی کہ 29 جولائی کے بعد متعدد افراد کو واچ تک رسائی حاصل رہی تھی اور اہل خانہ نے اس حوالے سے تفصیلات طلب کی تھیں۔
موبائل فون کے ڈیٹا سے متعلق تفتیشی افسر نے بتایا کہ فون کو متعدد مرتبہ اَن لاک کرنے کی کوششوں کے باعث وہ بلاک ہوگیا تھا اور متعلقہ ماڈل کو پاکستان میں اَن لاک کرنے کا طریقہ دستیاب نہیں تھا۔
کرپٹو اکاؤنٹس سے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز
کمیشن نے میر رضا کے کرپٹو اکاؤنٹس سے متعلق بھی سوالات کیے۔ تفتیشی افسر کے مطابق تین کرپٹو اکاؤنٹس کے ذریعے تقریباً 9 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئیں، جبکہ مزید معلومات کے لیے متعلقہ سائبر تحقیقاتی ادارے سے رابطہ کیا گیا ہے۔
وکیل جبران ناصر نے کہا کہ بینک اکاؤنٹس کے جائزے کے دوران تین افراد کی نشاندہی ہوئی جبکہ میر رضا کے اکاؤنٹ میں کرپٹو لین دین سے متعلق ادائیگیاں بھی موصول ہوئی تھیں۔
تفتیشی افسر کے مطابق کرپٹو اکاؤنٹس کے جائزے میں تقریباً 3 کروڑ روپے کی کمی سامنے آئی ہے اور متعلقہ پلیٹ فارم کے مطابق یہ رقم واپس اکاؤنٹ میں منتقل نہیں ہوئی۔
ذمہ داروں کے تعین پر کمیشن کے سوالات
سماعت کے دوران کمیشن نے تفتیشی افسر سے ملزمان کی گرفتاری سے متعلق بھی سوال کیا۔ سراج لاشاری نے کہا کہ پولیس کے لیے کسی شخص کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنانا آسان ہوسکتا تھا، تاہم ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ پولیس انصاف کے حصول کے لیے کام کر رہی ہے۔
کمیشن نے تفتیش میں سامنے آنے والی متعدد بے ضابطگیوں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے۔ ایس ایچ او عدیل افضال کے حوالے سے کمیشن نے کہا کہ شواہد متاثر ہونے کے باوجود وہ اپنے عہدے پر موجود ہیں۔ کمیشن کے مطابق اصل سوال اعلیٰ سطح پر ذمہ داری کے تعین کا ہے۔
اہل خانہ سے گفتگو کے دوران کمیشن نے کہا کہ خاندان کو حکومتی اداروں پر اعتماد کے حوالے سے تحفظات تھے اور کسی حکومتی نمائندے کی جانب سے مؤثر رابطہ نہیں کیا گیا۔ کمیشن کے مطابق اگر خاندان کو مسلسل پیش رفت سے آگاہ رکھا جاتا تو صورتحال مختلف ہوسکتی تھی۔
کمیشن نے کیس کو لسانی رنگ دینے کی کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
گواہوں کے بیانات، پولیس افسران کے تحریری جوابات، طبی و فرانزک رپورٹس، سی سی ٹی وی ریکارڈ، جیو فینسنگ ڈیٹا، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر مواد کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد کمیشن اب اپنی حتمی فائنڈنگز مرتب کرے گا۔ رپورٹ بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی جائے گی، جس کے بعد اس کی اشاعت اور مزید کارروائی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
جوڈیشل کمیشن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور تفتیش میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیاں حتمی عدالتی فیصلہ نہیں ہیں۔ کمیشن اب دستیاب شواہد اور گواہوں کے بیانات کا مجموعی جائزہ لے کر اپنی حتمی سفارشات و فائنڈنگز مرتب کرے گا، اس لیے کسی فرد کو حتمی طور پر ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
ماخذ: جوڈیشل کمیشن، پولیس تفتیشی ریکارڈ، سماعت کے دوران پیش کیے گئے بیانات