Latest news

محسن رضائی کی امریکہ پر تنقید، قدیم ایرانی تاریخ کا حوالہ دے دیا

Spread the love

منصور احمد,October10,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اکتوبر 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کو تہذیبوں کی جنگ کے طور پر پیش کرنے کے بجائے امریکی حکام کو تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے بیان میں قدیم ایرانی سلطنت اور رومی سلطنت کے درمیان ہونے والی جنگوں کا حوالہ دیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، محسن رضائی کا یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ایتھنز میں کی گئی تقریر کے ردعمل میں سامنے آیا۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، روبیو نے اپنی تقریر میں مغربی تہذیب کا ذکر کیا اور ایران اور اس کی تہذیب سے متعلق ایسے تبصرے کیے جنہیں ایرانی عہدیدار نے توہین آمیز قرار دیا۔

محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ امریکی حکام کو ایتھنز میں تہذیبوں کی جنگ کا بیانیہ پیش کرنے کے بجائے تاریخ کے اس واقعے کو یاد کرنا چاہیے جس میں ساسانی سلطنت کے بادشاہ شاپور اول کے دور میں رومی شہنشاہ والیرین گرفتار ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ کو بحث میں لانے والوں کو اس کے دوبارہ دہرائے جانے کے امکان کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

ان کا بیان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے تناظر میں تاریخی واقعات کو موجودہ سفارتی بیانیے سے جوڑنے کی ایک مثال ہے۔ تاہم، محسن رضائی کے بیان میں امریکہ کو شکست اور ذلت سے دوچار کرنے کا دعویٰ ان کا اپنا مؤقف ہے، اسے کسی ثابت شدہ موجودہ فوجی نتیجے کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔

ساسانی سلطنت اور شاپور اول کی تاریخی اہمیت

ساسانی سلطنت تقریباً 224ء سے 651ء تک قائم رہی اور قدیم ایران کی اہم ترین سلطنتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس دور میں ساسانی حکمرانوں اور رومی سلطنت کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے علاقوں، سرحدوں اور سیاسی اثرورسوخ پر متعدد جنگیں ہوئیں۔

شاپور اول ساسانی سلطنت کے دوسرے بادشاہ تھے اور انہوں نے تقریباً 240ء سے 270ء تک حکومت کی۔ وہ رومی سلطنت کے خلاف اپنی فوجی مہمات کے باعث تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

سنہ 260ء میں جنگِ ادیسہ کے بعد رومی شہنشاہ والیرین ساسانیوں کے قبضے میں آ گئے تھے۔ یہ رومی سلطنت کے لیے ایک غیر معمولی واقعہ تھا، کیونکہ ایک رومی شہنشاہ دشمن کے ہاتھوں زندہ گرفتار ہوا۔ اس واقعے کو قدیم ایران اور روم کے درمیان طاقت کے توازن کی تاریخ میں اہم سمجھا جاتا ہے۔

محسن رضائی کا تاریخی حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی موجودہ سیاسی قیادت امریکہ کے ساتھ اختلافات کو بیان کرنے کے لیے قدیم ایرانی فوجی کامیابیوں کو بھی اپنے مؤقف کا حصہ بنا رہی ہے۔ دوسری جانب، موجودہ تنازعے کی نوعیت اور اس کے نتائج کا تعین تاریخی واقعات کے بجائے موجودہ حالات اور قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر محسن رضائی کے بیان اور اس سے منسلک تاریخی پس منظر پر مبنی ہے۔ قدیم ایران اور روم کی جنگوں کے واقعات تاریخی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن انہیں موجودہ ایران امریکہ کشیدگی کے نتائج کا براہِ راست ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔

ماخذ: فراہم کردہ رپورٹ، ایرانی خبر رساں ادارہ ارنا سے منسوب بیان