
محمود احمد, September30,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 ستمبر 2026ء —
پاکستان نے صومالیہ کے ساحل کے قریب ہائی جیک کیے گئے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران عملے کے پانچ ارکان کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق جاں بحق افراد میں تین پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق حکومت پاکستان اور عوام نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ نے بتایا کہ جاں بحق پاکستانی شہریوں میں رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری شامل ہیں۔
صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کے حکام کے مطابق ایم ٹی آنر 25 کو اپریل میں سمندری قزاقوں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ تازہ کارروائی کے دوران صومالی میری ٹائم پولیس نے ٹینکر کو بازیاب کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق جہاز پر سوار عملے میں پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس سے قبل جون میں بتایا تھا کہ ایم ٹی آنر 25 پر پاکستانی شہریوں کی محفوظ رہائی کے لیے صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں سے سفارتی رابطے جاری تھے۔
حالیہ کارروائی کے حوالے سے صومالی حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ٹینکر کو پنٹ لینڈ کے علاقے بندر بیلا کے قریب کارروائی کے ذریعے بازیاب کرایا گیا۔ مختلف رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران پانچ عملہ ارکان ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں تین پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ تاہم ہلاکتوں کے حالات اور کارروائی کی مکمل تفصیلات کے بارے میں آزادانہ طور پر تمام معلومات دستیاب نہیں ہیں، اس لیے ان تفصیلات کو متعلقہ حکام کے بیانات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق زخمی پاکستانی شہریوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ایم ٹی آنر 25 سے زندہ بچ جانے والے عملے کو بحفاظت بندر بیلا کے ساحل تک پہنچا دیا گیا ہے۔
پاکستانی سفارتخانے کی ٹیم بھی پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے بندر بیلا روانہ ہو رہی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق حکومت پاکستان اپنے سفارتی مشن اور متعلقہ حکام کے ذریعے صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔
پاکستانی حکام زخمیوں کو ضروری طبی سہولیات کی فراہمی، جاں بحق پاکستانی شہریوں کی میتیں وطن منتقل کرنے اور زندہ بچ جانے والے پاکستانی عملے کی محفوظ واپسی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
ایم ٹی آنر 25 کے اغوا کے بعد پاکستانی عملے کی محفوظ رہائی کے لیے پاکستان پہلے بھی صومالی حکام کے ساتھ سفارتی رابطے میں رہا ہے۔ وزارت خارجہ نے جون میں کہا تھا کہ پاکستانی شہریوں کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے مذاکرات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رابطوں کو جاری رکھا گیا تھا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی اور عملے کی ہلاکتوں سے متعلق بعض تفصیلات صومالی حکام اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس سے سامنے آئی ہیں، جبکہ پاکستانی شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے سے متعلق معلومات وزارت خارجہ کے بیان سے متعلق ہیں۔ کارروائی کے دوران ہلاکتوں کے مکمل حالات اور تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق فی الحال دستیاب نہیں، اس لیے خبر میں متعلقہ معلومات کو ان کے ماخذ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
ماخذ: پاکستان وزارت خارجہ/بین الاقوامی و مقامی میڈیا رپورٹس، صومالی حکام سے منسوب بیانات۔