

کاشف عباسی ,October05,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اکتوبر 2026ء
صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے افغان طالبان حکومت کے نمائندوں کی جانب سے پاکستان کے سیاسی اور جمہوری نظام پر تبصرے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کو پاکستان کو جمہوریت کا درس دینے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔
مرتضیٰ سولنگی نے پیر کو ایکس پر جاری ایک بیان میں افغان طالبان پر دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت نے افغانستان میں خواتین اور بچیوں کی بنیادی آزادیوں پر پابندیاں عائد کیں جبکہ نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے بھی مسلسل تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے طالبان کے افغانستان میں اقتدار تک پہنچنے کے طریقہ کار پر بھی سخت اعتراض کیا اور کہا کہ طالبان نے برسوں تک بم حملوں، دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات اور خودکش حملوں کے بعد افغانستان میں اقتدار حاصل کیا۔
مرتضیٰ سولنگی نے اپنے بیان میں اس صورت حال کو ستم ظریفی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جو حکومت مبینہ طور پر طاقت اور بندوق کے ذریعے اپنا اختیار قائم کرتی ہے، وہ پاکستان کے جمہوری نظام پر سوال اٹھانے کی جسارت کیسے کر سکتی ہے۔
انہوں نے پاکستان کے قیام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو عوام کی مرضی اور وسیع عوامی حمایت کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ ان کے مطابق پاکستان کی سیاسی شناخت اور ریاستی بنیاد عوامی حمایت سے جڑی ہوئی ہے۔
مرتضیٰ سولنگی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی، سفارتی اور سکیورٹی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان خاص طور پر سرحدی سکیورٹی، دہشت گردی اور افغانستان سے سرگرم مسلح گروہوں سے متعلق معاملات پر کشیدگی پائی جاتی رہی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
مرتضیٰ سولنگی کا بیان ان کا سیاسی و سفارتی مؤقف ہے، جس میں انہوں نے افغان طالبان کی طرز حکمرانی اور پاکستان کے جمہوری نظام کے حوالے سے سخت تنقید کی ہے۔ خواتین کی آزادیوں، اقلیتوں اور دوحہ معاہدے سے متعلق الزامات کو خبر میں مرتضیٰ سولنگی کے بیان کے طور پر پیش کیا گیا ہے، انہیں نیوز اینڈ نیوز کی جانب سے آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔