Latest news

وزیراعظم کی لائیو اسٹاک شعبے میں اصلاحات، خصوصی فارم ہاؤسز اور برآمدات بڑھانے کی ہدایت

Spread the love

منصور احمد,October05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اکتوبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لائیو اسٹاک کے شعبے کی برآمدی استعداد بڑھانے کے لیے اعلیٰ نسل کے درآمد شدہ مویشیوں کی خصوصی فارم ہاؤسز میں پرورش کرکے انہیں برآمد کرنے، شعبے کو جدید اور کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے اور نجی شعبے کے ماہرین کی مدد سے اصلاحات تیار کرکے نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت لائیو اسٹاک شعبے میں جاری اصلاحات کے جائزے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں شعبے کی موجودہ صورتحال، برآمدات میں اضافے کے امکانات اور مستقبل کی حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اعلیٰ پیداوار دینے والی نسل کے مویشی درآمد کرکے خصوصی فارم ہاؤسز میں ان کی افزائش اور نشوونما کی جائے، جس کے بعد انہیں برآمد کیا جاسکے۔ انہوں نے ان فارم ہاؤسز کے لیے مویشیوں کی درآمد کو ڈیوٹی فری بنانے اور جانوروں کی شناخت و نگرانی کے لیے جدید ٹیگنگ نظام متعارف کرانے کی ہدایت بھی کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ لائیو اسٹاک کے شعبے کو جدید تقاضوں کے مطابق کارپوریٹ بنیادوں پر منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شعبے کی اصلاحات کی تیاری اور نفاذ میں نجی شعبے کے ماہرین کے تجربے سے استفادہ کرنے پر بھی زور دیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 245 ملین مویشی موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 5.5 کھرب روپے ہے۔ لائیو اسٹاک شعبہ قومی معیشت میں 14.97 فیصد اور زرعی معیشت میں 63.6 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ ملک میں سالانہ تقریباً 74.69 ملین ٹن دودھ اور 6.31 ملین ٹن گوشت پیدا ہونے کی بریفنگ بھی دی گئی۔

وزیراعظم نے مویشیوں میں بیماریوں کے خاتمے کے لیے وزارت قومی غذائی تحفظ کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت کی اور منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کے لیے واضح اہداف کے ساتھ لائحہ عمل آئندہ دو ہفتوں میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

انہوں نے ملک بھر کے مذبح خانوں کی بین الاقوامی سرٹیفکیشن یقینی بنانے اور ان کے معیار کی تھرڈ پارٹی سے توثیق کرانے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ گوشت اور لائیو اسٹاک کی برآمدی صنعت کی ترقی کے لیے پوری ویلیو چین کو بہتر بنانا ہوگا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ تقریباً 80 لاکھ دیہی خاندان لائیو اسٹاک کے شعبے سے وابستہ ہیں، تاہم چھوٹے پیمانے پر مویشی پالنے اور بکھری ہوئی سپلائی چین کے باعث برآمدی صلاحیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا۔

بریفنگ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی گوشت کی برآمدات تقریباً 530 ملین ڈالر رہیں، جبکہ موجودہ برآمدات کا بڑا حصہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور قطر سمیت خلیجی ممالک کو جاتا ہے۔ ملائیشیا، سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک کو مستقبل کی ممکنہ نئی اور توسیعی منڈیوں کے طور پر بھی اجاگر کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے جانوروں کی بیماریوں کی نگرانی، ٹریس ایبلٹی، منہ کھر کی بیماری سے پاک زونز، ویکسینیشن، ڈیجیٹل بیماریوں کی نگرانی، ایکسپورٹ گریڈ فارمز اور بین الاقوامی صحت و حلال سرٹیفکیشن سمیت مختلف اقدامات سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔

اجلاس میں فیڈ لاٹ فارمنگ، کولڈ چین، ڈی بوننگ، ویلیو ایڈڈ گوشت کی مصنوعات اور برآمدی انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کی حکمت عملی بھی زیر بحث آئی۔ وزیراعظم نے گوشت، لائیو اسٹاک اور متعلقہ مصنوعات کی برآمدات کے واضح اہداف مقرر کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
لائیو اسٹاک سے متعلق تمام اعداد و شمار اور برآمدی اہداف اجلاس میں دی گئی سرکاری بریفنگ کے مطابق ہیں۔ خصوصی فارم ہاؤسز، بیماریوں کے خاتمے، ٹریس ایبلٹی اور برآمدی انفراسٹرکچر سے متعلق اقدامات حکومت کی جانب سے بیان کردہ پالیسی اور اصلاحاتی تجاویز کا حصہ ہیں۔

ماخذ: وزیراعظم آفس، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان