Latest news

این سی سی آئی اے کا اجلاس، غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت

Spread the love

منصور احمد,October18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اکتوبر 2026ء

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مالی فراڈ، آن لائن دھوکہ دہی اور دیگر سائبر جرائم میں ملوث غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث مراکز کی نشاندہی کی جائے اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اتوار کو ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے سید علی ناصر رضوی نے ایڈیشنل ڈائریکٹر اسلام آباد محمد شعیب خان کے ہمراہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور تحقیقات و کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔

اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ شہریوں کو مالی فراڈ، آن لائن دھوکہ دہی اور دیگر سائبر جرائم سے محفوظ رکھنا ایجنسی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کریں، عوامی شکایات پر فوری توجہ دیں اور جاری تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کوششیں تیز کریں۔

غیر قانونی کال سینٹرز کی نشاندہی اور قانونی کارروائی

این سی سی آئی اے کے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے کال سینٹرز کی نشاندہی کی جائے جو مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں، مالی فراڈ یا سائبر جرائم میں ملوث ہیں۔ حکام کے مطابق کارروائی کے لیے ٹھوس شواہد جمع کرنا اور ان کی بنیاد پر قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔

غیر قانونی کال سینٹرز کے ذریعے شہریوں کو فون کالز، جعلی پیشکشوں، مشکوک سرمایہ کاری اسکیموں اور دیگر طریقوں سے دھوکہ دینے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں متاثرین سے ذاتی معلومات، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات یا رقم حاصل کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ تاہم ہر کال سینٹر کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے متعلقہ شواہد اور قانون کے مطابق جانچ ضروری ہے۔

ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے ہدایت کی کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ تحقیقات شواہد کی بنیاد پر کی جائیں اور قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

شہریوں کے مالی تحفظ پر توجہ

اجلاس میں شہریوں کو آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم سے محفوظ رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔ ڈیجیٹل خدمات اور آن لائن لین دین کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث شہریوں کے لیے ذاتی معلومات اور مالی تفصیلات کی حفاظت اہم ہو گئی ہے۔

سائبر جرائم میں ملوث عناصر بعض اوقات خود کو بینک، سرکاری ادارے، معروف کمپنی یا کسی معتبر کاروبار کا نمائندہ ظاہر کرکے لوگوں سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح جعلی انعامات، ملازمتوں، سرمایہ کاری یا فوری منافع کی پیشکشوں کے ذریعے بھی شہریوں کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔

شہریوں کو چاہیے کہ وہ کسی نامعلوم کال کرنے والے کو اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، پاس ورڈ، تصدیقی کوڈ یا دیگر حساس معلومات فراہم نہ کریں۔ کسی مشکوک کال یا آن لائن پیشکش کی صورت میں متعلقہ ادارے سے اس کی تصدیق کرنا اور ضرورت پڑنے پر شکایت درج کرانا مالی نقصان سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔

شکایات پر فوری توجہ دینے کی ہدایت

ڈائریکٹر جنرل نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوام کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان پر بروقت کارروائی کی جائے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جاری تحقیقات کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر آگے بڑھایا جائے اور ان کے نتائج تک پہنچنے کے لیے متعلقہ ٹیموں کے درمیان رابطہ بہتر بنایا جائے۔

سائبر فراڈ کے واقعات میں فوری شکایت اہم ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے متعلقہ اداروں کو دستیاب معلومات، لین دین کے ریکارڈ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تحقیقات شروع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ متاثرین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ دستیاب ثبوت، مثلاً پیغامات، کال کی تفصیلات اور مالی لین دین کا ریکارڈ محفوظ رکھیں۔

این سی سی آئی اے کی جانب سے کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت ایسے وقت میں اہم ہے جب آن لائن خدمات کے ساتھ مالی دھوکہ دہی کے مختلف طریقے بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ مؤثر تحقیقات، عوامی آگاہی اور قانون کے مطابق کارروائی کے ذریعے ایسے جرائم کی روک تھام کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

شواہد کی بنیاد پر کارروائی پر زور

این سی سی آئی اے کے اجلاس کا بنیادی مقصد غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف جاری اقدامات کا جائزہ لینا اور انہیں زیادہ مؤثر بنانا تھا۔ ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا کہ شہریوں کو سائبر جرائم سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اور بروقت قانونی کارروائی ضروری ہے۔

تاہم اجلاس کے حوالے سے جاری بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اب تک کتنے غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کی گئی، کتنے افراد گرفتار ہوئے یا کتنی شکایات زیرِ تفتیش ہیں۔ اسی طرح کسی مخصوص کال سینٹر یا مقدمے کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

آئندہ کارروائیوں کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکے گا کہ مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی، تحقیقات، متاثرین کی شکایات کے ازالے اور قانونی کارروائی میں کتنی پیش رفت ہوتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: این سی سی آئی اے نے غیر قانونی کال سینٹرز اور سائبر جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ یہ ہدایت کسی مخصوص مرکز کے جرم ثابت ہونے یا کسی فرد کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کرتی۔ متعلقہ افراد کے خلاف قانونی ذمہ داری کا تعین تحقیقات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

ماخذ: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)