Latest news

نیتن یاہو نے ایران پر اسرائیلی حملے کا منصوبہ روکنے کی خبر مسترد کر دی، ٹرمپ سے گفتگو پر تبصرے سے گریز

Spread the love

محمود احمد, October22,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اکتوبر 2026ء

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملے کو روک دیا تھا۔ نیتن یاہو نے اس رپورٹ کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر امریکی صدر کے ساتھ اپنی حالیہ گفتگو کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کریں گے۔

اسرائیلی چینل سیون سے گفتگو کے دوران نیتن یاہو سے ان اطلاعات کے بارے میں سوال کیا گیا جن کے مطابق اسرائیلی فوج اکتوبر میں ایران پر حملے کے لیے تیار تھی، لیکن امریکی صدر نے حملے کو روکنے کا فیصلہ کیا۔ نیتن یاہو نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز سے منسوب اس رپورٹ کو غلط قرار دیا، تاہم انہوں نے امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

اس بیان کے بعد ایران کے معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان رابطوں اور ممکنہ فوجی اقدامات سے متعلق قیاس آرائیاں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم کے بیان سے یہ واضح نہیں ہوا کہ زیرِبحث رپورٹ کے کن مخصوص نکات کو وہ غلط قرار دے رہے ہیں، اور نہ ہی انہوں نے کسی ممکنہ حملے کے بارے میں تفصیلی وضاحت پیش کی۔

اکتوبر میں ممکنہ حملے سے متعلق رپورٹ کیا تھی؟

فنانشل ٹائمز سے منسوب رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج 10 اور 11 اکتوبر کو ایران پر حملے کے لیے تیار تھی، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ میں اس مبینہ فیصلے کو امریکی سیاسی کیلنڈر اور ایران سے متعلق پالیسی کے تناظر میں بیان کیا گیا تھا۔

تاہم نیتن یاہو کے تازہ بیان نے اس رپورٹ کی صحت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نے رپورٹ کو غلط قرار دیا، لیکن انہوں نے اس کے مقابلے میں واقعات کی مکمل تفصیل یا کوئی متبادل ٹائم لائن پیش نہیں کی۔ اس لیے حملے کی تیاری اور اسے مبینہ طور پر روکنے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید معلومات درکار ہیں۔

اس معاملے میں یہ فرق بھی اہم ہے کہ کسی فوج کی جانب سے ممکنہ کارروائی کے لیے تیاری اور اس کارروائی کی سیاسی منظوری یا حتمی فیصلہ الگ امور ہیں۔ اسی طرح کسی فوجی منصوبے پر اتحادی ممالک کے درمیان مشاورت ہونا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ کارروائی روک دی گئی تھی۔

ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے متعلق مؤقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔ انتخابات کے قریب آنے کے باعث ایران سے متعلق امریکی پالیسی کے وقت اور نوعیت پر توجہ بڑھ گئی ہے۔

ٹرمپ کے حالیہ بیانات میں ایران کے معاملے پر جلد پیش رفت کا اشارہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے خیال میں مذاکرات نہیں ہوں گے، لیکن جلد کچھ ہو سکتا ہے۔ ان کے بیان میں کسی مخصوص کارروائی، تاریخ یا حتمی فیصلے کی تفصیل شامل نہیں تھی۔

ان بیانات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ امریکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے، سفارتی راستے کو محدود سمجھتا ہے یا کسی دوسرے اقدام کی تیاری کر رہا ہے۔ کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے امریکی حکومت کی باضابطہ وضاحت اور متعلقہ فریقوں کے مزید بیانات اہم ہوں گے۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات پر اثرات

ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور فوجی سرگرمیوں سے متعلق اختلافات کئی برسوں سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے تعلقات میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق خبریں ایسے ماحول میں سامنے آتی ہیں جہاں کسی فوجی اقدام کے علاقائی اثرات، جوابی کارروائی کے خدشات اور سفارتی رابطوں کی گنجائش پر مسلسل بحث جاری رہتی ہے۔

اگرچہ اسرائیلی وزیرِاعظم نے رپورٹ کو مسترد کیا ہے، لیکن ان کے بیان سے خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتِ حال کے بارے میں تمام سوالات حل نہیں ہوئے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ایران سے متعلق آئندہ حکمتِ عملی کے بارے میں کس حد تک متفق ہیں یا ان کے درمیان کن امور پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ایران پر حملہ یقینی طور پر منسوخ ہو چکا ہے یا اس کے لیے کوئی حتمی تاریخ طے کی گئی ہے۔ نیتن یاہو کا بیان رپورٹ کی تردید کرتا ہے، جبکہ ٹرمپ کے بیانات مستقبل کی پیش رفت کے بارے میں غیر واضح اشارے دیتے ہیں۔ آئندہ سرکاری بیانات اور قابلِ تصدیق معلومات اس معاملے کی مزید وضاحت کر سکتی ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

نیتن یاہو نے ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملے کو روکنے سے متعلق رپورٹ مسترد کی ہے، لیکن امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ حملے کی تیاری یا اسے روکنے کے دعوے کو حتمی حقیقت قرار دینے سے پہلے متعلقہ حکام کی مزید تصدیق ضروری ہے۔

ماخذ: اسرائیلی چینل سیون، امریکی صدر کے عوامی بیانات، فنانشل ٹائمز سے منسوب رپورٹ