Latest news

نیتن یاہو: فلائی دبئی طیارے کے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کا کہنا قبل از وقت ہے

Spread the love

محمود احمد, October01,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اکتوبر 2026ء

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے سنگین واقعے کے پیچھے ایران کے ممکنہ کردار کے بارے میں اس مرحلے پر کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

یہ واقعہ 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں پیش آیا، جو دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق دورانِ پرواز ایک معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر طیارے کے کپتان پر چاقو سے حملہ کیا، جس کے بعد طیارہ تیزی سے بلندی کھونے لگا اور ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔ مسافروں اور عملے نے مداخلت کرکے حملہ آور کو قابو کیا، جس کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑ دیا گیا اور وہاں ہنگامی لینڈنگ کی گئی۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو میں نیتن یاہو سے سوال کیا گیا کہ کیا واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی اشارہ سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے جواب دیا کہ ’’یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ مبینہ حملہ آور اس وقت سعودی عرب میں زیرِ تفتیش ہے اور امکان ہے کہ اسے متحدہ عرب امارات منتقل کیا جائے گا، جہاں سے پرواز نے سفر شروع کیا تھا۔

رائٹرز کے مطابق طیارہ تقریباً 14 ہزار فٹ کی بلندی تیزی سے کھونے کے بعد سعودی عرب میں اترا۔ واقعے کے دوران کپتان زخمی ہوئے جبکہ مسافروں اور عملے کی مداخلت کے بعد طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیا گیا۔ واقعے میں ملوث معاون پائلٹ کو ایک عمانی شہری بتایا گیا ہے، جبکہ طیارے کے کپتان کی شناخت بھارتی شہری کے طور پر ہوئی ہے۔

نیتن یاہو نے واقعے کے بعد طیارے میں موجود مسافروں اور عملے کی کارروائی کو سراہا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے اس واقعے کے بعد نیتن یاہو سے بات کی۔ ٹرمپ کے مطابق ابتدائی طور پر یہ امکان موجود ہے کہ حملہ آور شدت پسند ہو سکتا ہے یا واقعے کے پیچھے کوئی اور وجہ ہو، تاہم انہوں نے بھی کسی حتمی وجہ کی نشاندہی نہیں کی۔

فلائی دبئی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرواز کے فلائٹ ڈیک میں ایک واقعہ پیش آیا اور طیارے نے بحفاظت سعودی عرب میں لینڈ کیا۔ تاہم ایئرلائن نے واقعے کے محرکات یا مقصد کے بارے میں حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا اور تحقیقات جاری رہنے کی بات کی ہے۔

واقعے میں ایران کے ممکنہ کردار کا سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلے ہی شدید علاقائی کشیدگی موجود ہے۔ تاہم نیتن یاہو کے تازہ بیان کے مطابق اس مرحلے پر ایران کو واقعے سے جوڑنے کے لیے کوئی حتمی ثبوت یا نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کی وجوہات اور مبینہ حملہ آور کے محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے خود ایران کے ممکنہ کردار کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کو قبل از وقت قرار دیا ہے، اس لیے ایران کے ملوث ہونے کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔

ماخذ: رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، فلائی دبئی سے متعلق رپورٹس۔