

محمود احمد, October01,2026
حمص (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اکتوبر 2026ء
شام کے وسطی صوبے حمص میں ایک بس پر مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ واقعہ بدھ کی شام پیش آیا، جب ایک کمپنی کے ملازمین کو لے جانے والی بس کو مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔
شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق حملہ حمص کے علاقے میں کیا گیا، تاہم فوری طور پر فائرنگ کے محرکات اور حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں کی جانب سے تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
برطانیہ میں قائم شام کے حوالے سے کام کرنے والے انسانی حقوق کے ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے افراد علوی اقلیت سے تعلق رکھتے تھے۔ ادارے کے مطابق بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں علوی برادری کے افراد مختلف حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
علوی برادری شام کی ایک اہم مذہبی اقلیت ہے اور سابق صدر بشار الاسد کے خاندان کا تعلق بھی اسی برادری سے تھا۔ دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی، تاہم مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور مسلح کارروائیوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
حالیہ حملے میں نشانہ بننے والی بس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں ایک کمپنی کے ملازمین سفر کر رہے تھے۔ حملہ آوروں نے شام کے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی شام بس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔
واقعے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی مسلح گروہ نے قبول نہیں کی۔ اسی طرح سرکاری حکام کی جانب سے حملے کے پس پردہ محرکات یا ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کے حوالے سے مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد نئی سیاسی صورتحال کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں سکیورٹی چیلنجز برقرار ہیں۔ ایسے واقعات سے مقامی آبادی کے تحفظ اور ملک میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق خدشات دوبارہ سامنے آتے ہیں، تاہم موجودہ واقعے کے محرکات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
حمص میں بس پر حملے اور سات افراد کی ہلاکت کی اطلاع شام کے سرکاری میڈیا سے سامنے آئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں کے علوی برادری سے تعلق رکھنے کا دعویٰ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی جانب سے کیا گیا ہے، جس کی اس خبر کے دستیاب مواد میں آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ حملے کے ذمہ دار افراد اور محرکات بھی فوری طور پر واضح نہیں تھے۔
ماخذ: شام کا سرکاری میڈیا، سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس، فراہم کردہ خبر کی معلومات