Latest news

این آئی سی وی ڈی میں مارفین کے 3 ہزار انجیکشن زائدالمیعاد، نئے اسٹاک کی فراہمی میں تاخیر

Spread the love

روزینہ اسماعیل,October12,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء

قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) میں مارفین کے تقریباً 3 ہزار انجیکشن زائدالمیعاد ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ انجیکشن نومبر 2025 میں اپنی مدتِ استعمال ختم ہونے کے باعث قابلِ استعمال نہیں رہے، تاہم ان کی جگہ نیا اسٹاک فراہم کرنے کا معاملہ تاحال حل نہیں ہو سکا۔

رپورٹ کے مطابق این آئی سی وی ڈی نے 2023 میں مارفین کے 6 ہزار انجیکشن خریدے تھے۔ ان انجیکشنز کی مدتِ استعمال نومبر 2025 تک تھی، جس کے بعد تقریباً نصف اسٹاک زائدالمیعاد ہو گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مدت ختم ہونے کے ایک سال بعد بھی ان انجیکشنز کی تبدیلی کا عمل مکمل نہیں ہو سکا۔

مارفین ایک طاقتور درد کش دوا ہے جو مخصوص طبی حالات میں شدید درد کم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس کی خریداری، ذخیرہ اندوزی اور فراہمی عام ادویات کے مقابلے میں زیادہ سخت قانونی اور انتظامی ضابطوں کے تحت ہوتی ہے، کیونکہ اس کے استعمال اور تقسیم کی نگرانی ضروری ہے۔

این آئی سی وی ڈی انتظامیہ کے مطابق مارفین کے نئے اسٹاک کی فراہمی ایکسائز اور نارکوٹکس حکام کی ذمہ داری ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہسپتال کو نئے مارفین انجیکشن بغیر اضافی ادائیگی کے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ان کی خریداری اور واپسی کا عمل قانونی ضابطوں کے مطابق انجام دیا جاتا ہے۔

ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر صغیر کے مطابق مارفین کے انجیکشن بیرونِ ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں، جس کے باعث ان کی خریداری کا عمل پیچیدہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں مریضوں کے درد کو کم کرنے کے لیے مارفین کے متبادل دیگر درد کش ادویات استعمال کی جا رہی ہیں، جن کی خریداری کا طریقۂ کار نسبتاً آسان ہے۔

اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ 2023 میں خریدے گئے انجیکشنز کی مدتِ استعمال ختم ہونے سے پہلے متبادل اسٹاک کی فراہمی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور نئے انجیکشنز کی فراہمی میں تاخیر کی وجوہات کیا ہیں۔ دستیاب فراہم کردہ متن میں اس حوالے سے تفصیلی وضاحت موجود نہیں۔

ادویات کی خریداری اور اسٹاک مینجمنٹ میں بروقت منصوبہ بندی اہم ہوتی ہے، خصوصاً ان ہسپتالوں میں جہاں شدید درد میں مبتلا مریضوں کو فوری طبی امداد درکار ہوتی ہے۔ تاہم، فراہم کردہ رپورٹ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مارفین کی عدم دستیابی سے مریضوں کے علاج پر کس حد تک اثر پڑا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

اس خبر میں انجیکشنز کی تعداد، مدتِ استعمال اور انتظامیہ کے مؤقف سے متعلق تفصیلات فراہم کردہ متن اور اس میں بیان کردہ نجی ٹی وی کی رپورٹ پر مبنی ہیں۔ آزادانہ تصدیق کے بغیر ان تفصیلات کو حتمی طور پر ثابت شدہ قرار نہیں دیا جا رہا۔ مارفین ایک طاقتور دوا ہے، اس لیے اس کا استعمال صرف مستند طبی ہدایات اور متعلقہ ضوابط کے مطابق ہونا چاہیے۔

ماخذ: این آئی سی وی ڈی انتظامیہ، ہیلتھ رپورٹرز ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز کراچی۔