

کاشف عباسی ,May 30 ,2026
اسلام آباد: (نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء)
آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاریوں کے دوران مختلف شعبوں پر نئے ٹیکسوں کی تجاویز زیر غور ہیں، جن کے باعث سولر پینلز، برقی گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے پر زور دیے جانے کے بعد حکومت مختلف شعبوں میں ٹیکس شرحوں پر نظرثانی کر رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بجٹ تجاویز میں ماحول دوست ٹیکنالوجی اور متبادل توانائی کے شعبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ مجوزہ منصوبے کے تحت برقی گاڑیوں پر عائد کم شرح کے ٹیکس میں اضافہ جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرح کو مزید بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اگر ان تجاویز کی منظوری دی گئی تو برقی کاروں، موٹر سائیکلوں، رکشوں، بسوں، ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔
اسی طرح سولر پینلز پر بھی ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویز سامنے آئی ہے، جس سے متبادل توانائی کے منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی گرمی، بجلی کی بلند قیمتوں اور لوڈ مینجمنٹ کے مسائل کے باعث بڑی تعداد میں شہری شمسی توانائی کی جانب راغب ہو رہے ہیں، تاہم نئے ٹیکس نافذ ہونے کی صورت میں سولر نظام کی تنصیب مزید مہنگی ہو جائے گی۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت محصولات میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم ماحول دوست توانائی اور جدید ٹرانسپورٹ کے شعبوں پر اضافی بوجھ سے ان شعبوں کی ترقی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ شمسی توانائی کی حوصلہ افزائی ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ کی حتمی منظوری اور ٹیکس شرحوں کا اعلان وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہی سامنے آئے گا، تاہم مجوزہ اقدامات نے عوام اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی ریلیف اور محصولات کے اہداف کے درمیان توازن برقرار رکھنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔





































