

محمود احمد, October12,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء
پاکستان اور افغانستان کی طالبان حکومت کے درمیان دہشت گردی کے معاملے پر سفارتی کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے، جہاں پاکستانی حکام نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم شدت پسند گروہوں کے خطرے پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے، جبکہ افغان طالبان حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں افغان طالبان کے ترجمان پر الزام عائد کیا کہ وہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں سے پاکستان کو خطرات لاحق ہیں اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے افغان حکام کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
پاکستانی بیان میں افغان طالبان حکومت کی طرزِ حکمرانی اور شہری حقوق سے متعلق پالیسیوں پر بھی تنقید کی گئی، خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیوں کا حوالہ دیا گیا۔ اسلام آباد نے کہا کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان کی وزارتِ اطلاعات اور حکومتی ترجمان نے پاکستان کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ افغان حکام نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنے داخلی مسائل پر توجہ دے اور دوطرفہ تعلقات میں الزام تراشی کے بجائے مثبت طرزِ عمل اختیار کرے۔
پاکستان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ افغانستان کے ساتھ بات چیت اور سفارتی رابطوں کا حامی ہے، تاہم تعلقات میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکام انسدادِ دہشت گردی سے متعلق وعدے پورے کریں اور مبینہ محفوظ پناہ گاہوں اور معاونت کے نیٹ ورکس کے خلاف ایسے اقدامات کریں جن کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن ہو۔
پاکستانی حکام نے اپنے مؤقف کی تائید میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی سولہویں رپورٹ کا حوالہ بھی دیا، جس کے بارے میں فراہم کردہ متن میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں تقریباً چھ ہزار تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجو موجود ہونے کا اندازہ ظاہر کیا گیا تھا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی جائزوں کو محض پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
دونوں حکومتوں کے درمیان بنیادی اختلاف افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والے حملوں، شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات پر ہے۔ اس معاملے پر سفارتی پیش رفت کا انحصار دونوں جانب کے مؤقف، عملی اقدامات اور ان کی قابلِ تصدیق تفصیلات پر ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
اس خبر میں پاکستانی اور افغان حکام کے مؤقف کو الگ الگ منسوب کیا گیا ہے۔ افغانستان میں ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی تعداد اور گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق اس تحریر کی تیاری کے دوران نہیں کی گئی؛ اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ فراہم کردہ متن کے مطابق شامل کیا گیا ہے۔
ماخذ: وزارتِ اطلاعات پاکستان، افغان طالبان وزارتِ اطلاعات و نشریات