Latest news

حوثیوں کی امریکہ کو فوجی مداخلت پر دھمکی، سعودی عرب کا سخت ردعمل دینے کا عندیہ

Spread the love

محمود احمد, October12,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء

یمن کے حوثی گروپ، انصار اللہ، نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ یمن کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں شرکت کی صورت میں اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب نے حالیہ حملوں کے بعد اپنی سلامتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس دوران ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ یمن کے خلاف فوجی مداخلت میں شامل ہوا تو حوثی خطے میں امریکی مفادات اور دیگر ممکنہ اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی مداخلت تنازع کو مزید پھیلا سکتی ہے اور پورے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ البخیتی نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر اہم مقامات پر کام کرنے والے ملازمین کو بھی خبردار کیا اور ان مقامات کو ممکنہ اہداف قرار دیا۔

دوسری جانب سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے حالیہ حملوں کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جواب میں مناسب ردعمل ضروری ہے۔ ان کے مطابق توانائی کے عالمی تحفظ کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں اور سعودی عرب ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

ریاض ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیبات پر حملوں کے دعوے

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے دعویٰ کیا ہے کہ گروپ نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دمام کے شاہ فہد ایئرپورٹ اور سعودی مشرقی صوبے میں آرامکو سے وابستہ تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ حوثیوں کے مطابق ان حملوں سے ریاض ایئرپورٹ کی فضائی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جبکہ سعودی حکام نے میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی اقدامات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم فراہم کردہ معلومات میں ان حملوں کے نتائج، نقصانات اور فضائی سرگرمیوں میں خلل کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے۔

پروازوں اور فضائی سفر پر اثرات

فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، سکیورٹی خدشات کے باعث متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے ریاض، جدہ اور دمام کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل یا محدود کی ہیں۔ امریکی سفارت خانے نے سعودی عرب میں تعینات اپنے سرکاری ملازمین کے لیے ہوائی اڈوں کے استعمال پر اضافی پابندیوں کا اعلان کیا، جبکہ امریکی وفاقی ادارے برائے ہوا بازی سے بھی سعودی فضائی حدود میں احتیاط سے متعلق ہدایات منسوب کی گئی ہیں۔

ان اقدامات کی موجودہ صورتِ حال اور متعلقہ فضائی کمپنیوں کے شیڈول کی الگ سے تصدیق ضروری ہے۔

متحدہ عرب امارات کا مشترکہ دفاع مضبوط بنانے پر زور

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مشترکہ دفاعی اور سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب پر حملوں سے پورے خلیجی خطے کی سلامتی کو لاحق خطرات نمایاں ہوتے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون ضروری ہے۔

یمن میں جھڑپیں اور تعز کی صورتحال

یمن میں بھی لڑائی تیز ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حوثی جنگجوؤں نے جنوب مغربی شہر تعز کے اطراف اہم راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے نتیجے میں شہر کے زمینی رابطوں پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ فراہم کردہ متن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جھڑپوں میں دونوں جانب درجنوں افراد ہلاک ہوئے، تاہم ہلاکتوں کی تعداد اور زمینی صورتِ حال کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔

مجموعی طور پر حوثیوں کی دھمکیوں، سعودی عرب کی ممکنہ جوابی کارروائی، ایران کی ثالثی کی پیشکش اور یمن میں جاری جھڑپوں نے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار فریقین کے عملی اقدامات، سفارتی رابطوں اور حملوں سے متعلق دعووں کی تصدیق پر ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

اس خبر میں حوثیوں کے حملوں، فضائی سرگرمیوں میں خلل اور تعز میں ہلاکتوں سے متعلق دعووں کو حتمی طور پر ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دیا گیا۔ فراہم کردہ متن میں ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں، اس لیے قارئین ان تفصیلات کو متعلقہ فریقوں سے منسوب دعووں کے طور پر دیکھیں۔

ماخذ: فراہم کردہ خبر میں منسوب بیانات؛ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ ساری، انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی، سعودی وزیر توانائی اور متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر سے منسوب مؤقف۔