

منصور احمد,October23,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اکتوبر 2026ء
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، جبکہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ترجمان کے مطابق نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے 18 اکتوبر کو مصر اور ایران کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں خطے کی تازہ صورت حال، باہمی تعاون اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار کی مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے گفتگو کے دوران علاقائی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کیا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان اور مصر اس بات پر متفق ہیں کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنا اور علاقائی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنا ضروری ہے۔ گفتگو میں خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال اور مختلف ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے۔
پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب کے تعاون کا جائزہ
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور بدر عبدالعاطی نے پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب پر مشتمل ریجنل فور، یعنی آر-4، تعاون کے فریم ورک کے تحت جاری سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا۔
اس فریم ورک کا مقصد چاروں ممالک کے درمیان علاقائی امور پر مشاورت، سفارتی ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے اس کے آئندہ اجلاس کے انعقاد کی امید ظاہر کی تاکہ باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور مشترکہ دلچسپی کے معاملات پر مشاورت جاری رکھی جا سکے۔
پاکستان کے لیے اس نوعیت کے رابطے اس لیے اہم ہیں کہ خطے میں جاری تنازعات اور سکیورٹی خدشات کے اثرات ایک ملک تک محدود نہیں رہتے۔ مختلف ممالک کے درمیان مسلسل رابطہ علاقائی صورت حال کو سمجھنے، اختلافات پر تبادلۂ خیال کرنے اور ممکنہ سفارتی حل تلاش کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان گفتگو
دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ اس گفتگو میں خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال اور بغداد میں جاری اسلامی تعاون تنظیم، او آئی سی، کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں پیش آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں ایک دوسرے سے رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے سرحدی سلامتی، علاقائی استحکام اور باہمی تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کو ایسے معاملات کا سامنا رہتا ہے جن میں مسلسل مشاورت اور متعلقہ حکام کے درمیان رابطہ کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے حل کے امکانات بڑھانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
بغداد میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کا حوالہ بھی اس گفتگو میں اہم تھا۔ اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر رکن ممالک علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر اپنے مؤقف کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ایسے اجلاس سفارتی مشاورت، مشترکہ ترجیحات اور مسلم ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات پر بات چیت کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان کا سفارت کاری پر زور
دفترِ خارجہ کے مطابق مصر اور ایران کے وزرائے خارجہ سے اسحاق ڈار کے رابطے پاکستان کے اس مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ علاقائی تنازعات اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکالمے، سفارتی روابط اور باہمی تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
پاکستان نے مختلف علاقائی معاملات پر متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سفارتی سطح پر مشاورت جاری رکھنے اور اختلافات کے پرامن حل کے امکانات تلاش کرنے کا خواہاں ہے۔
تاہم ان رابطوں کے نتیجے میں کسی نئے معاہدے یا مشترکہ فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ فی الحال سامنے آنے والی تفصیلات میں بنیادی طور پر علاقائی صورت حال پر تبادلۂ خیال، سعودی عرب کے لیے حمایت کے اعادے اور مستقبل میں سفارتی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق شامل ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر دفترِ خارجہ کے ترجمان کی بریفنگ میں بیان کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ اسحاق ڈار کی مصری اور ایرانی وزرائے خارجہ سے گفتگو کے حوالے سے کسی نئے معاہدے یا پالیسی تبدیلی کی تصدیق نہیں کی گئی؛ بیان میں سفارتی رابطوں اور علاقائی تعاون جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
ماخذ: دفترِ خارجہ پاکستان،