Latest news

بحیرۂ احمر میں مبینہ حملے کا شکار کشتی پر سوار 14 بھارتی شہری محفوظ، سفارتخانے کی تصدیق

Spread the love

منصور احمد,October23,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اکتوبر 2026ء

یمن میں بھارتی سفارتخانے نے تصدیق کی ہے کہ بحیرۂ احمر میں مبینہ حملے کا نشانہ بننے والی کشتی پر سوار تمام 14 بھارتی شہری محفوظ ہیں اور یمن کے مغربی ساحلی شہر الحدیدہ کے قریب موجود ہیں۔ سفارتخانے کے مطابق ان شہریوں کی خیریت اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ متعلقہ حکام سے رابطے کے ذریعے صورت حال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ 22 اکتوبر کو جزیرہ جبل زقر کے قریب ایک کشتی کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں کے مطابق کشتی پر 14 بھارتی شہری سوار تھے۔ گروپ نے واقعے کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا، تاہم حملے کی ذمہ داری اور اس کے حالات سے متعلق ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

بھارتی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اسے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تمام 14 شہری محفوظ ہیں اور الحدیدہ کے علاقے میں موجود ہیں۔ سفارتخانے نے ان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم واضح کیا کہ ان کی خیریت اور تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حوثیوں کا سعودی عرب پر الزام

حوثی گروپ کی جانب سے جاری دعوے کے مطابق مبینہ حملہ جزیرہ جبل زقر کے قریب پیش آیا، جو بحیرۂ احمر کے اہم سمندری راستے کے نزدیک واقع ہے۔ حوثیوں نے اس واقعے کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہرایا، تاہم سعودی حکام کی جانب سے اس مخصوص الزام پر ردعمل اور حملے کی مکمل تفصیلات کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات میں واضح نہیں ہیں۔

واقعے کے بعد بھارتی شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی تھی، کیونکہ بحیرۂ احمر کے اطراف میں بحری سلامتی اور علاقائی کشیدگی کے معاملات عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ بھارتی سفارتخانے کی جانب سے تمام 14 شہریوں کے محفوظ ہونے کی تصدیق اس صورت حال میں ایک اہم پیش رفت ہے، اگرچہ ان کی واپسی، منتقلی یا آئندہ کے سفری انتظامات کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

الحدیدہ کے قریب شہریوں کی صورت حال

الحدیدہ یمن کا ایک اہم مغربی ساحلی شہر اور بحیرۂ احمر کے کنارے واقع بندرگاہی مرکز ہے۔ یمن میں جاری تنازع کے باعث اس ساحلی خطے میں سلامتی کے معاملات حساس نوعیت رکھتے ہیں۔ سمندری راستوں پر کسی بھی حملے یا سکیورٹی واقعے سے تجارتی سرگرمیوں، بحری آمدورفت اور وہاں موجود غیر ملکی شہریوں کی نقل و حرکت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

بھارتی سفارتخانے کی جانب سے شہریوں کی سلامتی کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ حکام اس معاملے پر رابطے میں ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بھارتی شہری اس وقت کس نوعیت کی کشتی پر سوار تھے، ان کا سفر کہاں سے شروع ہوا تھا، ان کی منزل کیا تھی اور وہ کس مقصد کے لیے اس سمندری راستے پر موجود تھے۔

یہ تفصیلات اس لیے اہم ہیں کہ ان سے واقعے کے حالات اور متاثرہ شہریوں کی موجودہ صورت حال کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات میں ان سوالات کے مکمل جواب موجود نہیں ہیں۔

بحیرۂ احمر کی بحری سلامتی پر توجہ

بحیرۂ احمر بین الاقوامی تجارت اور بحری آمدورفت کے لیے اہم سمندری راستہ ہے۔ اس خطے میں سکیورٹی کے کسی بھی واقعے سے تجارتی جہازوں، عملے اور سمندر میں سفر کرنے والے دیگر افراد کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ایسے واقعات کے بعد متعلقہ ممالک کے سفارتی اور سکیورٹی ادارے اپنے شہریوں کی خیریت معلوم کرنے اور ان کے تحفظ کے انتظامات پر توجہ دیتے ہیں۔

بھارتی شہریوں کے محفوظ ہونے کی تصدیق کے باوجود واقعے کے بارے میں کئی سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔ ان میں حملے کی نوعیت، ذمہ داری کے دعوے، کشتی کی شناخت اور واقعے کے بعد شہریوں کو محفوظ مقام تک پہنچانے کے انتظامات شامل ہیں۔ ان امور پر مزید معلومات سامنے آنے سے صورت حال واضح ہو سکتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: تمام 14 بھارتی شہریوں کے محفوظ ہونے کی اطلاع بھارتی سفارتخانے کے بیان پر مبنی ہے۔ کشتی پر حملے اور سعودی عرب کے ملوث ہونے کا الزام حوثی گروپ نے عائد کیا ہے؛ اسے آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔ حملے کی نوعیت اور ذمہ داری سے متعلق مزید تصدیق کا انتظار ہے۔

ماخذ: یمن میں بھارتی سفارتخانہ، حوثی گروپ کے بیانات