پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر تنازعات، جنگوں اور غذائی عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے پر زور: سفیر عاصم افتخار احمد کا خطاب

Spread the love

محمود احمد, August 26,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر جاری تنازعات، جنگوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید غذائی عدم تحفظ کے دوہرے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اصولوں، عالمی انسانی قوانین کی پاسداری اور پیشگی سفارتی حکمتِ عملی اپنانے پر شدید زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام ‘جنگ کی زد میں خوراک: عالمی اور مقامی غذائی بحرانوں کے تدارک میں سلامتی کونسل کا کردار’ کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی وزارتی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ‘2026 گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز’ کے اعداد و شمار پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جس میں دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی بھوک اور غذائی قلت کی بنیادی وجہ تشدد اور عسکری تنازعات کو قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی سطح پر 266 ملین سے زائد افراد شدید ترین غذائی عدم تحفظ کا شکار رہے ہیں جبکہ پچھلی ایک دہائی میں بھوک کے واقعات دگنے ہو چکے ہیں اور شدید بھوک کا سامنا کرنے والے 70 فیصد سے زائد افراد تنازعات کی زد میں گھیرے علاقوں میں مقیم ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب میں واضح کیا کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی انسانی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا تاکہ بھوک، قحط اور شہری آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے عمل کو کبھی بھی فوجی یا سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہ کیا جا سکے۔ انہوں نے غزہ، یمن، سوڈان، جنوبی سوڈان اور ہیٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں خوراک و بنیادی ضروریات کی معطلی، امدادی سامان پر پابندیوں اور انسانی بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے فلسطینیوں کو ناقابلِ برداشت مصائب میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنازعات کی وجہ سے عالمی معیشت، خوراک اور مال برداری کے اخراجات میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کا سب سے بڑا اور غیر متناسب بوجھ غریب اور ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے۔ پاکستان نے مطالبات پیش کیے کہ انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنے والوں کا محاسبہ کیا جائے، امداد کو سیاسی و عسکری شرائط سے پاک رکھا جائے اور WFP و FAO کی رپورٹس کی روشنی میں پیشگی کارروائی کی جائے۔ سفیر عاصم افتخار نے اختتام پر کہا کہ محض انسانی امداد سیاسی حل کا متبادل نہیں ہو سکتی اور امن قائم کیے بغیر دنیا میں پائیدار غذائی تحفظ کا حصول ممکن نہیں ہے۔