Latest news

پاکستان میں ایل پی جی کی قیمت 600 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی، 11.67 کلو سلنڈر 7 ہزار روپے تک پہنچ گیا

Spread the love

منصور احمد,October24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء

پاکستان میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں اس کی فی کلو قیمت 600 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایل پی جی ڈیلرز کے مطابق 11.67 کلو گرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت بڑھ کر 7 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ گزشتہ ہفتے یہی سلنڈر تقریباً 4 ہزار 500 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔ اس اضافے نے گھریلو صارفین، چھوٹے کاروباروں اور ان خاندانوں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں جو کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔

وفاقی ادارہ شماریات کے ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ ہفتے ایل پی جی کی قیمت گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 22.50 فیصد بڑھی، جبکہ گزشتہ سال اکتوبر کے اسی عرصے کے مقابلے میں اس کی قیمت میں 107 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مختلف علاقوں میں ایل پی جی تقریباً 550 سے 610 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔

قیمتوں میں اضافے کے باوجود آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے فی کلو مقرر کی تھی۔ سرکاری نرخ اور بازار میں وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان نمایاں فرق نے نگرانی، سپلائی اور قیمتوں پر عمل درآمد سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔

سرکاری قیمت اور بازار کے نرخ میں بڑا فرق

ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود کئی علاقوں میں اس سے تقریباً دو گنا یا اس سے بھی زیادہ نرخ وصول کیے جا رہے ہیں۔ صارفین کے لیے اس فرق کا مطلب یہ ہے کہ گھریلو سلنڈر بھروانے پر انہیں سرکاری نرخ کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

پاکستان میں ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے قیمتوں میں اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں نرخ مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ سرحدی بندش سے ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب گیس پر دباؤ بڑھا ہے۔

عرفان کھوکھر نے یہ بھی کہا کہ سرکاری قیمت پر فروخت یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی نہیں ہو رہی۔ ان کے بقول ایل پی جی کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے باعث صارفین کو مقررہ نرخوں سے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ تاہم ان الزامات اور مختلف علاقوں میں قیمتوں کی صورت حال کا تعین متعلقہ حکام کی نگرانی اور تحقیقات سے ہونا چاہیے۔

ایران کی سرحدی بندش سے سپلائی متاثر

پاکستان میں ایل پی جی مقامی ریفائنریوں اور تیل و گیس کے ذخائر سے حاصل ہونے والی پیداوار کے علاوہ درآمدات کے ذریعے بھی دستیاب ہوتی ہے۔ ایران سے آنے والی ایل پی جی بھی ملکی رسد کا ایک حصہ ہے، اس لیے سرحدی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہونے سے بعض علاقوں میں سپلائی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

ایل پی جی ڈیلرز کے مطابق ایران کے ساتھ سرحدی بندش نے دستیابی پر دباؤ بڑھایا ہے۔ تاہم قیمتوں میں موجودہ اضافے کو صرف ایک وجہ سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ مقامی پیداوار، درآمدی رسد، نقل و حمل کے اخراجات، طلب اور مارکیٹ میں قیمتوں کی نگرانی بھی نرخوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

سردیوں کے آغاز پر پاکستان میں ایل پی جی کی طلب عموماً بڑھ جاتی ہے۔ جہاں پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب نہیں ہوتی، وہاں بہت سے گھرانے کھانا پکانے اور بعض صورتوں میں گرمائش کے لیے ایل پی جی استعمال کرتے ہیں۔ طلب میں موسمی اضافے کے ساتھ اگر سپلائی محدود ہو جائے تو قیمتوں پر مزید دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

گھریلو صارفین اور چھوٹے کاروبار متاثر

سلنڈر کی قیمت 4 ہزار 500 روپے سے بڑھ کر 7 ہزار روپے تک پہنچنے کا مطلب ہے کہ صارفین کو ایک ہی سلنڈر کے لیے تقریباً 2 ہزار 500 روپے اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ محدود آمدن والے خاندانوں کے لیے یہ اضافہ گھریلو بجٹ پر نمایاں بوجھ ڈال سکتا ہے۔

ایل پی جی استعمال کرنے والے ہوٹلوں، چائے خانوں، چھوٹے ریستورانوں اور دیگر کاروباروں کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اگر کاروباری ادارے اضافی لاگت صارفین تک منتقل کرتے ہیں تو کھانے پینے کی بعض اشیا کی قیمتوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم اس کے حقیقی اثرات کا انحصار کاروبار کی نوعیت، مقامی طلب اور ایندھن کے متبادل ذرائع کی دستیابی پر ہوگا۔

قیمتوں پر عمل درآمد کے لیے نگرانی ضروری

سرکاری نرخ اور بازار میں فروخت ہونے والی ایل پی جی کی قیمت میں نمایاں فرق کے پیش نظر متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سپلائی چین، ڈسٹری بیوشن اور فروخت کے مقامات کا جائزہ لیں۔ اس کے ساتھ یہ جانچنا بھی اہم ہے کہ مقررہ قیمت پر عمل درآمد میں کہاں رکاوٹیں موجود ہیں اور آیا کسی مقام پر غیر قانونی ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری ہو رہی ہے۔

اگر سپلائی میں کمی بنیادی وجہ ہے تو متبادل رسد کے انتظامات اور مقامی پیداوار کی دستیابی بہتر بنانا اہم ہوگا۔ دوسری جانب، اگر مقررہ نرخوں پر عمل درآمد میں کوتاہی پائی جاتی ہے تو مؤثر نگرانی اور قانون کے مطابق کارروائی سے صارفین کو ریلیف دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: قیمتوں اور ہفتہ وار اضافے کے اعداد و شمار ادارہ شماریات اور ایل پی جی ڈیلرز سے منسوب معلومات پر مبنی ہیں۔ ایران کے ساتھ سرحدی بندش کو سپلائی متاثر ہونے کی ایک وجہ بتایا گیا ہے، تاہم قیمتوں میں اضافے کی تمام وجوہات کے تعین کے لیے رسد، مقامی پیداوار اور مارکیٹ نگرانی سے متعلق مکمل معلومات درکار ہیں۔

ماخذ: پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن