Latest news

سعودی عرب کی وارننگ: میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیوز بنانے یا شیئر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی

Spread the love

روزینہ اسماعیل,October24,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء

سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین کو خبردار کیا ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں کی ویڈیوز بنانا، انہیں شائع کرنا یا دوبارہ شیئر کرنا، نیز ان کارروائیوں اور ملبہ گرنے کے مقامات سے متعلق معلومات پھیلانا قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ سرکاری تنبیہ کو نظر انداز کرنے والوں کو قانون کے مطابق نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

محکمہ شہری دفاع کی جانب سے جاری پیغام عربی، انگریزی، اردو، ہندی اور بنگالی سمیت متعدد زبانوں میں شائع کیا گیا، تاکہ مختلف زبانیں بولنے والے رہائشیوں اور شہریوں تک ہدایات پہنچائی جا سکیں۔ پیغام میں زور دیا گیا کہ حساس سکیورٹی واقعات سے متعلق تصاویر، ویڈیوز یا مقام کی معلومات کو غیر مصدقہ انداز میں پھیلانے سے گریز کیا جائے۔

یہ تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے چند گھنٹے قبل سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سمیت مختلف علاقوں میں ابتدائی انتباہی نظام فعال کیے گئے تھے۔ بعد ازاں محکمہ شہری دفاع نے اعلان کیا کہ متعلقہ علاقوں میں خطرہ ٹل گیا ہے۔

حساس سکیورٹی معلومات شیئر کرنے پر پابندی

سعودی شہری دفاع کی ہدایت کا بنیادی مقصد میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں سے متعلق حساس معلومات کے غیر ضروری پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ ایسے واقعات کی ویڈیوز یا تصاویر میں بعض اوقات دفاعی نظام کی سرگرمیوں، کارروائیوں کے وقت اور مقامات یا گرنے والے ملبے کی جگہوں سے متعلق معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان معلومات کو سوشل میڈیا پر شائع یا دوبارہ شیئر کرنے سے سکیورٹی اداروں کے کام اور ہنگامی کارروائیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسی فوٹیج بنانے اور پھیلانے سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

اس تنبیہ میں صرف ویڈیو بنانے والے افراد ہی نہیں بلکہ وہ صارفین بھی شامل ہو سکتے ہیں جو ایسی معلومات کو آگے پھیلاتے ہیں۔ تاہم کسی مخصوص خلاف ورزی پر لاگو ہونے والی سزا یا قانونی کارروائی کی تفصیلات جاری کردہ پیغام میں بیان نہیں کی گئیں۔

ریاض سمیت مختلف علاقوں میں انتباہی نظام فعال

سعودی عرب میں شہریوں کو خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے ابتدائی انتباہی نظام استعمال کیا جاتا ہے۔ ریاض سمیت مختلف علاقوں میں اس نظام کے فعال ہونے کے بعد شہری دفاع نے صورت حال سے متعلق مزید اطلاع جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔

ابتدائی انتباہ کا جاری ہونا بذاتِ خود کسی مخصوص مقام پر نقصان یا جانی نقصان کی تصدیق نہیں کرتا۔ اسی طرح خطرہ ٹلنے کے اعلان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ حکام کی جانب سے اس وقت کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد شہریوں کو آگاہ کیا گیا ہے۔ کسی واقعے کی مکمل تفصیلات کے لیے سرکاری معلومات کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔

شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین کے لیے ہدایات

سکیورٹی یا ہنگامی صورت حال میں شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے کے بجائے متعلقہ سرکاری اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔ میزائل یا ڈرون سے متعلق انتباہ موصول ہونے کی صورت میں محفوظ مقام پر رہنا، خطرناک جگہوں سے دور رہنا اور امدادی اداروں کے کام میں رکاوٹ نہ ڈالنا اہم احتیاطی اقدامات ہیں۔

سعودی شہری دفاع کی کثیراللسانی تنبیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام مختلف زبانیں بولنے والے افراد تک بھی یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس لیے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں سمیت غیر ملکی باشندوں کو بھی چاہیے کہ وہ مقامی قوانین اور سرکاری حفاظتی ہدایات سے آگاہ رہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: قانونی کارروائی سے متعلق انتباہ سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع کے جاری کردہ پیغام پر مبنی ہے۔ دستیاب معلومات میں مخصوص سزاؤں یا کسی فرد کے خلاف کارروائی کی تفصیلات شامل نہیں۔ شہریوں کو تازہ ترین ہدایات کے لیے متعلقہ سرکاری اعلانات پر انحصار کرنا چاہیے۔

ماخذ: سعودی عرب کا محکمہ شہری دفاع