Latest news

بدیان سیکٹر میں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت، پاکستان کا بھارت سے شدید احتجاج

Spread the love

منصور احمد,October03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اکتوبر 2026ء

پاکستان نے بین الاقوامی سرحد کے قریب بدیان سیکٹر میں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارتی ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کرلیا۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق 2 اکتوبر کو بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوا۔ دفتر خارجہ نے بھارتی اقدام کو نہتے شہریوں کے خلاف مبینہ طور پر ’’بلااشتعال مہلک طاقت‘‘ کا استعمال قرار دیتے ہوئے اسے بلاجواز اور حد سے زیادہ قرار دیا۔

وزارتِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان جاں بحق شہریوں کو ’’درانداز‘‘ قرار دینے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستان کے مطابق یہ واقعہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے حقِ زندگی کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔

پاکستان نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مناسب قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے اور تحقیقات کے نتائج سمیت کی جانے والی کارروائی سے پاکستانی حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے۔

دفتر خارجہ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا احترام یقینی بنائے، متعلقہ دوطرفہ معاہدوں اور سرحدی طریقہ کار کی پابندی کرے اور ایسے واقعات میں زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرے۔ پاکستان نے مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ واقعہ 2 اکتوبر کو قصور کے قریب پاکستان بھارت بین الاقوامی سرحد پر پیش آیا تھا۔ پاکستانی سرکاری ذرائع کے مطابق تین مقامی شہری سرحدی ستون سے چند قدم آگے گئے، جس کے بعد بی ایس ایف اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کی۔ پاکستانی ذرائع نے کہا کہ تینوں شہری غیر مسلح تھے اور ان میں سے دو جاں بحق ہوئے۔ جاں بحق افراد کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے نام سے کی گئی ہے۔

تاہم واقعے کے بارے میں دونوں ملکوں کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق شہریوں نے سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی، جبکہ بھارتی ذرائع ابلاغ نے بی ایس ایف ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ دونوں افراد بھارتی پنجاب کے ترن تارن ضلع میں سرحد عبور کرکے داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں رکنے کے لیے کہا گیا تھا۔

بھارتی اور پاکستانی بیانات میں واقعے کے مقام اور حالات کی تفصیلات بھی یکساں نہیں ہیں، اس لیے فائرنگ کے درست حالات کے تعین کے لیے مزید تحقیقات اہم ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت اور ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع کے ساتھ پاکستان کی جانب سے بھارتی ناظم الامور کی طلبی کی تصدیق دفتر خارجہ نے کی ہے۔ فائرنگ کے حالات اور جاں بحق افراد کی جانب سے سرحد عبور کرنے سے متعلق پاکستان اور بھارت کے مؤقف مختلف ہیں، اس لیے متنازع تفصیلات کو خبر میں متعلقہ فریقین سے منسوب کیا گیا ہے۔

ماخذ: وزارتِ خارجہ پاکستان، ریڈیو پاکستان، بھارتی ذرائع ابلاغ