

منصور احمد,October03,2026
مسقط (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اکتوبر 2026ء
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو تیل بردار جہازوں کو الگ الگ واقعات میں نامعلوم پراجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ میں جہاز رانی کی سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
برطانیہ کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق پہلے واقعے میں ایک ٹینکر آبنائے ہرمز سے باہر نکل رہا تھا کہ اسے نامعلوم پراجیکٹائل نے نشانہ بنایا۔ واقعے کے نتیجے میں جہاز پر معمولی آگ بھڑک اٹھی اور بجلی کا نظام متاثر ہوا، تاہم عملے نے آگ پر قابو پالیا اور جہاز نے اپنا سفر جاری رکھا۔
حکام کے مطابق پہلے واقعے میں کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی اور ماحولیاتی آلودگی کی بھی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ واقعے کی نوعیت اور پراجیکٹائل کے ذریعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
دوسرے واقعے میں چند گھنٹوں بعد عمان کے مشرق میں ایک خام تیل بردار جہاز بھی نامعلوم پراجیکٹائل کی زد میں آیا۔ UKMTO کے مطابق اس واقعے میں بھی جہاز کے تمام عملہ محفوظ رہا اور فی الحال کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
برطانوی میری ٹائم اتھارٹی نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام واقعے میں استعمال ہونے والے پراجیکٹائل اور حملوں کے ممکنہ ذمہ داروں سے متعلق مزید معلومات جمع کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ حالیہ مہینوں میں خطے میں جاری فوجی کشیدگی اور ایران، امریکہ اور دیگر فریقوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے باعث اس راستے سے گزرنے والے تجارتی اور توانائی کے جہازوں کو سکیورٹی کے اضافی خطرات کا سامنا ہے۔
تازہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کی بحری نقل و حمل پہلے ہی سکیورٹی خدشات، اضافی اخراجات اور بعض جہازوں کے لیے حفاظتی انتظامات کے باعث دباؤ میں ہے۔ ستمبر 2026 میں آبنائے سے ایل این جی کی ترسیل میں اضافہ ضرور ہوا، تاہم خطے میں بحری سلامتی کی صورتحال بدستور غیر یقینی رہی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی بڑے بحری واقعے کے اثرات صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی تیل، گیس اور بحری نقل و حمل کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم تازہ حملوں میں استعمال ہونے والے پراجیکٹائل اور ان کے ذمہ داروں کے بارے میں تاحال کوئی حتمی سرکاری تعین سامنے نہیں آیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
تازہ واقعات کی بنیادی معلومات UKMTO کی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ دونوں حملوں کے لیے فی الحال کسی فریق کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا، اس لیے خبر میں حملہ آور یا ذمہ دار کے بارے میں کوئی حتمی دعویٰ شامل نہیں کیا گیا۔ ماحولیاتی نقصان یا جانی نقصان کی اطلاع نہ ملنے کی تصدیق بھی دستیاب ابتدائی رپورٹس تک محدود ہے۔
ماخذ: یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO)، رائٹرز