

منصور احمد,October02,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اکتوبر 2026ء
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے فطری عمل ہے اور قومی مسائل کا پائیدار حل مکالمے، باہمی مشاورت اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔
جمعہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے۔ ان کے مطابق اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور مختلف قومی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرنے کے ساتھ ساتھ پارلیمانی فورم کو مؤثر طور پر استعمال کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں مختلف سیاسی جماعتوں کا اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہونا فطری امر ہے، تاہم قومی معاملات پر بات چیت کے ذریعے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے امید ظاہر کی کہ مذاکراتی عمل ملک میں سیاسی استحکام، باہمی اعتماد اور پارلیمانی روایات کے فروغ کی جانب مثبت پیش رفت ثابت ہوگا۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات 2 اکتوبر کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے سپیکر کے چیمبر میں ہوئے۔ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے علاوہ پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
مذاکرات کے پہلے دور کے بعد فریقین نے آئندہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ رپورٹس کے مطابق اگلا دور 3 اکتوبر کو دوپہر دو بجے منعقد ہونے کا طے ہوا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا بیان سیاسی اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور پارلیمانی مشاورت پر زور دینے سے متعلق ہے۔ مذاکرات میں شریک فریقین کے مؤقف اور آئندہ ہونے والی پیش رفت کو الگ الگ طور پر بیان کیا جانا ضروری ہے؛ اس خبر میں کسی فریق کے سیاسی مؤقف کو ترجیح یا حتمی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
ماخذ: قومی اسمبلی، دستیاب رپورٹس